رُوئے دلبر از طلبگاراں نمی دارد حجاب
می درخشَددر خورو می تابد اندر ماہتاب
لیکن آن روئے حَسِین از غافلاں مانَد نہاں
عاشقی باید کہ بردارند از بہرش نقاب
دامنِ پاکش زِنَخْوت ہا نمی آید بَدَست
ہیچ راہی نیست غَیر از عجزودرد و اِضطراب
بس خطرناک است راہِ کُوچۂ یارِ قدیم
جاں سلامت بایدت از خودروی ہا سربتاب
تا کلامش فہم و عقلِ ناسزایاں کم رَسَد
ہر کہ از خود گم شود اویا بداں راہِ صواب
مشکلِ قرآن نہ از ابناء دُنیا حل شود
ذوق آں می داندآں مستی کہ نوشدآں شراب
اَیکہ آگاہی ندادندت ز انوارِ دروں
درحقِ ماہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب
از سرِ وعظ و نصیحت این سخن ہا گفتہ ایم
تا مگر زین مرہمی بہ گردد آں زخمی خراب
از دعا کن چارۂ آزارِ انکارِ دُعا
چون علاج می زمی وقتِ خُمارو اِلتہاب
اَیکہ گوئی گر دُعاہا را اثربودے کجاست
سوئی من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب
ہان مکن انکار زین اسرار قدرت ہائے حق
قِصہ کوتہ کن بہ بیں ازمادُعائے مستجاب
دیکھوصفحہ ۲۔۳۔۴ سرورق *
لیکھرؔ ام پشاوری کی نسبت ایک اورخبر
آج ۲۔ اِپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی غنودگی کی حالت میں َ میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہو ا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں ۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اُس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہؤا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شدّا د غلاظ میں سے ہے اور اسکی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اُسکو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب میں نے اُسوقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کیلئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ہاں یقینی طور پر یاد ہے کہ وہ دوسرا شخص انہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یکشنبہ کا دن اور ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔