کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور کسی جگہ پانی کے سَرد ہونے کی طرف ایما فرمایا ہے ۔ اور کبھی کہا ہے کہ سُورج مشرق سے مغرب کی طرف جاتا ہے۔ تو یہ بیانات جو حالات موجودہ کے اظہار کے لئے ہیں سیّد صاحب کی نظر میں بطور وعدہ کے ہیںؔ جن میں تغییر تبدیل ممکن نہیں اگر استخراجِ دلائل کا یہی طریق ہے تو سیّد صاحب پر بڑی مشکل پڑے گی اور اُن کو ماننا پڑے گا کہ تمام بیانات قرآن کریم کے مواعید میں داخل ہیں ۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے جو حضرت زکریاکو بشارت دیکر فرمایا3 ۱ تو بموجب قاعدہ سیّد صاحب کے چاہیئے تھا کہ حضرت یحیی ہمیشہ غلام یعنی لڑکے ہی رہتے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت یحیی کو غلام کر کے پکارا ہے۔ اور یہ وعدہ ہوگیا۔ایسی ہی اور بیسوں مثالیں ہیں سب کو بیان کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے ۔ اگر سیّد صاحب کی نظر میں واقعات موجودہ کے بیان کرنے سے آئندہ کے لئے اور ہمیشہ کے لئے کوئی وعدہ لازم آجاتا ہے تو ان سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسا ہی وہ بات بات میں انسانوں پر الزام لگائیں گے۔ اور ایک موجودہ واقعہ کے بیان کرنے کو وہ ایک دائمی وعدہ سمجھ لیں گے ۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ سیّد صاحب اپنےؔ آخری دن کو یادکرکے چند ماہ اس عاجز کی صحبت میں رہیں ۔ اور چونکہ میں مامور ہوں اور مبشّر ہوں اس لئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ سیّد صاحب کے اطمینان کے لئے توجّہ کروں گا۔ اور اُمید رکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ کوئی ایسا نشان دکھلائے کہ سیّد صاحب کے مجوزہ قانون قدرت
بقیہ حاشیہ: ۲ کے مصداق ہیں۔ اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتاً فوقتاً کھینچا جاتا ہے وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سرّ ہے۔
بر کاروبار ہستی اثری صد عارفان را
زجہان چہ دید آن کس کہ ندید این جہان را