استعدادیں ظہور و بروز میں آجائیں گی جیساکہ پہلے اس سے ابھی اس کی تفصیل ہو چکی ہے۔ ۱ یعنی اُس وقت اُونٹنی بیکا رہو جائے گی اور اُس کا کچھ قدرومنزلت نہیں رہے گا۔ عشارؔ حملدار اُونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے اس آیت کو کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جس میں اُونٹ اُونٹنی کو ملے اورحمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے اورحملدار ہونے کی اِس لئے قیدلگادی کہ تا یہ قید دُنیا کے واقعہ پر قرینہ قویہّ ہو اور آخرت کی طر ف ذرہ بھی وہم نہ جائے ۲ اور جس وقت کتابیں منتشر کی جائیں گی اور پھیلائی جائیں گی یعنی اشاعت کتب کے وسائل پَیدا ہو جائیں گے۔ یہ چھاپے خانوں اورڈاک خانوں کی طر ف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہو جائے گی۔3۳ اور جس وقت جانیں باہم ملائی جائیں گی۔یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں بباعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دور دور کے رشتے اورتجارتی اتحاد ہونگے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔ ۴ اورجس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جائیں گے مطلب یہ ہے کہ وحشی قومیں تہذیبؔ کی طرف رجوع کریں گی اور اُن میں انسانیت اورتمیز آئے گی اور اراذل دنیوی مراتب اورعزّت سے ممتاز ہو جائیں گے اور بباعث دنیوی علوم و فنون پھیلنے کے شریفوں اوررذیلوں میں کچھ فرق نہیں رہے گا بلکہ رذیل غالب آجائیں گے یہاں تک کہ کلید دولت اور عنانِ حکومت ان کے ہاتھ میں ہو گی اورمضمون اس آیت کا ایک حدیث کے مضمون سے بھی ملتا ہے۔ ۵ اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی۔ اور کاشتکاری کثرت سے ہو گی۔۶ اور جس وقت پہاڑ اڑائے جائیں گے اور ان میں سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یاریل کے چلنے کیلئے بنائی جائیں گی۔ پھر علاوہ اس کے عام ظلمت کی نشانیاں بیان فرمائیں اورفرمایا۔۷ جس وقت سُورج لپیٹا