میں اور خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں میں ہی دست اندازی کریں اور یہ شوق پیدا ہو کہ کسی طرح اسکی جگہ بھی ہم ہی لے لیں ۔ وہ لوگ جو احادیث مسیح موعود اور احادیث متعلّقہ دجال پر حرف زنی کرتے ہیں اُن کو اِس مقام میں بھی غور کرنی چاہیئے کہ اگریہ پیشگوئیاں خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتیں اور صرف انسان کا کاروبار ہوتا تو ممکن نہ تھاکہ ایسی صفائی اورعمدگی سے پُوری ہوتیں کیا یہ بھی کبھی کسی کے گمان میں تھا کہ یہ قوم نصاریٰ کسی زمانہ میں انسان کے خدابنانے میں اس قدر کوششیں اور جعلسازیاں کریں گے اور فلسفی تحقیقاتوں میں خدا کے لئے کوئی مرتبہ خصوصیّت نہیں چھوڑیں گے۔ دیکھو خر دجال جس کے ما بین اُذنین کا ستر۷۰ باع کافاصلہ لکھا ہے ریلوں کی گاڑیوں سے بطور اغلب اکثر بالکل مطابق آتا ہے اور جیسا کہ قرآن اورحدیث میں آیا ہے کہ اس زمانہ میں اونٹ کی سواریاں موقوف ہو جائیں گی ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ریل کی سواری نے اِن تمام سواریوں کو مات کر دیا اور اب انکی بہت ہی کم ضرورت باقی رہی ہے اور شائد تھوڑے ہی عرصہ میں اِس قدر ضرورت بھی باقی نہ رہے ایساہی ہم نے بچشم دیکھا کہ درحقیقت اس قوم کے علماء و حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے کہ جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کر تا ایں دم پائیؔ نہیں جاتی۔ پس بلاشبہ نبوت میں بھی انہوں نے مداخلت کی اور خدائی میں بھی۔ اب اس سے زیادہ ان احادیث کی صحت کاکیا ثبوت ہو کہ ان کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور قرآن کریم کی ان آیات میں یعنی ۱؂میں حقیقت میں اسی دجّالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرہ بھی عقل ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔ پھر اسی زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ ۲؂ جبکہ زمین کھینچی جاوے گی یعنی زمین صاف کی جائے گی اور آبادی بڑھ جاوے گی اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو زمیں باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی یعنی تمام ارضی