اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقعہ دینا ہے پس واقعی اور حقیقی معنے یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ تغیرات اور فتن اور زلازل ہمارے زمانہ میں قوم نصاریٰ سے ہی ظہور میں آئے ہیں جن کی نظیر دُنیا میں کبھی نہیں پائی گئی۔ پس یہ ایک دُوسری دلیل اِس بات پر ہے کہ یہی قوم وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا جس نے دُنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھلائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجّال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا وہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آگئیں۔ نبوت کا دعویٰ اِس طرح پر کہ اِس قوم کے پادریوں نے نبیوں کی کتابوں میں بڑی گستاخی سے دخل بے جا کیا اور ایسی بے باکانہ مداخلت کی کہ گویاوہ آپ ہی نبی ہیں جس طرف چاہا اُن کی عبارات کو پھیر لیا اور اپنے مدعا کے موافق شرحیں لکھیں اور بیباکی سے ہر یک جگہ مفتریانہ دخل دیا۔ موجود کو چھپایا اور معدوم کو ظاہر کیا اور دعویٰ کے ساتھ ایسے محرف طور پر معنے کئے کہ گویا اُن پر وحی نازل ہوئی اوروہ نبی ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ دیکھاجاتاہے کہ وہ مناظرات اور مباحثات کے وقت ایسے بیہودہ اور دور از صدق جواب عمدًا ؔ دیتے ہیں کہ گویا وہ ایک نئی انجیل بنا رہے ہیں۔ ایسا ہی اُن کی تالیفات بھی کسی نئے عیسیٰ اور نئی انجیل کی طرف رہبری کر رہی ہیں اور وہ جھوٹ بولنے کے وقت ذرہ ڈرتے نہیں اور چالاکی کی راہ سے کروڑہا کتابیں اپنے اس کاذبانہ دعو یٰ کے متعلق بنا ڈالیں گویا وہ دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خدائی کی کرسی پر بیٹھے ہیں اور خُدائی کا اِس طرح پر دعویٰ کیا کہ خدائی کاموں میں حد سے زیادہ دخل دے دیا اور چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ایسا بھید مخفی نہ رہے جو وہ اُس کی تہ تک نہ پہنچ جائیں اور ارادہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے سارے کاموں کو اپنی مُٹھی میں لے لیں اور ایسے طور سے خدائی کی کَل اُن کے ہاتھ میں آجائے کہ اگرممکن ہو تو سورج کاغروب او ر طلوع بھی انہیں کے اختیار میں ہی ہو اور بارش کا ہونا نہ ہونا بھی ان کے اپنے ہاتھ کی کارستانی پر موقوف ہو اور کوئی بات ان کے آگے انہونی نہ رہے اور دعویٰ خدائی اور کیا ہوتا ہے یہی تو ہے کہ خدائی کاموں