یعنی زمینی علوم اور زمینی مکر اور زمینی چالاکیاں اور زمینی کمالات جو کچھ انسان کی فطرت میں مودع ہیں سب کی سب ظہور میں آجائیں گی اور نیز زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنے تمام خواص ظاہر کردے گی اور علم طبعی اور فلاحت کے ذریعہ سے بہت سی خاصیتیں اس کی معلوم ہو جائیں گی اور کانیں نمودار ہوں گی او رکاشتکاری کی کثرت ہوجائے گی۔ غرض زمین زرخیز ہوجائے گی اور انواع اقسام کی کلیں ایجاد ہوں گی یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور یہ نئے نئے علوم اور نئے نئے فنون اور نئی نئی صنعتیں کیونکر ظہور میں آتی جاتی ہیں تب زمین یعنی انسانوں کے دل زبان حال سے اپنے قصے سنائیں گے کہ یہ نئی باتیں جو ظہور میں آرہی ہیں یہ ہماری طرف سے نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی وحی ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ انسان اپنی کوششوں سے اس قدر علوم عجیبہ پیدا کرسکے۔
اور یاد رہے کہ ان آیات کے ساتھ جو قرآن کریم میں بعض دوسری آیات جو آخرت کے متعلق ہیں شامل کی گئی ہیں وہ درحقیقت اُسی سنت اللہ کےؔ موافق شامل فرمائی گئی ہیں جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ور نہ اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی اور مقدم معنے ان آیات کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کئے او راُس پر قرینہ جو نہایت قوی اور فیصلہ کرنے والا ہے یہ ہے کہ اگر ان آیات کے حسب ظاہر معنے کئے جائیں تو ایک فساد عظیم لازم آتا ہے۔ یعنی اگر ہم اس طور سے معنے کریں کہ کسی وقت باوجود قائم رہنے اس آبادی کے جو دنیا میں موجود ہے۔ ایسے سخت زلزلے زمین پر آئیں گے جو تمام زمین کے اُوپر کا طبقہ نیچے اور نیچے کا اُوپر ہو جائے گا ۔ تو یہ بالکل غیر ممکن اور ممتنعات میں سے ہے۔ آیت موصوفہ میں صاف لکھا ہے کہ انسان کہیں گے کہ زمین کو کیا ہو گیا ۔ پھر اگر حقیقتًا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شدید زلزلوں کے ساتھ زیر وزبر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہو گا جو زمین سے سوال کرے گا وہ تو پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔ علوم حسّیہ کا تو کسی طرح سے انکار نہیں ہو سکتا پس ایسے معنے کرنا جو ببداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گویااسلام سے ہنسی کرانا