روح پھونکی جائے گی اور وہ زندگی دوسروں میں سرایت کرے گی۔ یاد رہے کہ صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کرکے دوسری صورت میں لاتا ہے تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو سے اس صور کا ایک وجود جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سر اس دنیا میں بجز منقطعین کے اور کسی پر کھل نہیں سکتے۔ بہرحال آیات موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہوگا ور ایک آسمانی مصلح آئے گا درحقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ جبکہ فتنہ کی بنیاد نصاریٰ کی طرف سے ہوگی اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہو گا کہؔ ان کی صلیب کی شان کو توڑے۔ اس لئے جو شخص نصاریٰ کی دعوت کے لئے بھیجا گیا بوجہ رعایت حالت اس قوم کے جو مخاطب ہے اس کا نام مسیح اور عیسیٰ رکھا گیا اور دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ جب نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو خدا بنایا اور اپنی مفتریات کو ان کی طرف منسوب کیا اور ہزارہا مکاریوں کو زمین پر پھیلایا اور حضرت مسیح کی قدر کو حد سے زیادہ بڑھا دیا تو اس زندہ اور وحیدبے مثل کی غیرت نے چاہا کہ اسی امت سے عیسیٰ ابن مریم کے نام پر ایک اپنے بندہ کو بھیجے اور کرشمہ قدرت کا دکھلاوے تا ثابت ہوکہ بندوں کو خدا بنانا حماقت ہے وہ جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور مشت خاک کو افلاک تک پہنچا سکتا ہے اور اس جگہ یہ بات بھی یاد رہے کہ زمانہ کے فساد کے وقت جب کہ کوئی مصلح آتا ہے اس کے ظہور کے وقت پر آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے۔ یعنی اس کے اترنے کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے تب دنیا خود بخود بشرط استعداد نیکی اور سعادت کے طریقوں کی طرف رغبت کرتی ہے اور ہریک دل تحقیق اور تدقیق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور نامعلوم اسباب سے طلب حق کے لئے ہریک طبیعت مستعدہ