میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگا دیتی ہے اور زمانہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک انقلاب عظیم کی طرف حرکت کر رہا ہے سو یہ علامتیں اس بات پر شاہد ہوتی ہیں کہ وہ مصلح دنیا میں پیدا ہوگیا پھر جس قدر آنے والا مصلح عظیم الشان ہو یہ غیبی تحریکات قوت سے مستعد دلوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ ہریک سعید الفطرت جاگ اٹھتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کو کس نے جگایا۔ ہریک صحیح الجبلت اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور نہیں معلوم کرسکتا کہ یہ تبدیلی کیونکر پیدا ہوئی۔ غرض ایک جنبش سی دلوں میں شروع ہوجاتی ہے اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ جنبش خود بخود پیدا ہوگئی لیکن درپردہ ایک رسول یامجدّد کے ساتھ یہ انوار نازل ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے یہ امر نہایت انکشاف کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂ یعنی ہم نے اس کتاب اور اس نبی کو لیلۃ القدر میں اتار ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔ اور وہ ہریک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو۔ اب اگرچہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلۃ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔ سو خداتعالیٰ ا س وقت اپنے نورانی ملائکہ اورروح القدس کو زمین پر نازل کرتاہے۔اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے تب روح القدس تو اس مجدّد اور مصلح سے تعلّق پکڑتا ہے جو اجتبا اور اصطفا کی خلعت سے