پھیل گئیں تو جانو کہ وعدہ کا وقت نزدیک ہے۔ پھر دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔ ۱؂ الجزونمبر۱۶یعنی جب وعدہ خدا تعالیٰ کا نزدیک آ جائے گا تو خدا تعالیٰ اس دیوار کوریزہ ریزہ کردے گا جو یاجوج ماجوج کی روک ہے اور خداتعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور ہم اس دن یعنی یاجوج ماجوج کی سلطنت کے زمانہ میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے کہ تا ایک دوسرے میں موجزنی کریں یعنی ہریک فرقہ اپنے مذہب اور دین کو دوسرے پر غالب کرنا چاہے گا اور جس طرح ایک موج اس چیز کو اپنے نیچے دبانا چاہتی ہے جس کے اوپر پڑتی ہے اسی طرح موج کی مانند بعض بعض پر پڑیں گی تا ان کو دبا لیں اور کسی کی طرف سے کمی نہیں ہوگی ہریک فرقہ اپنے مذہب کو عروج دینے کے لئے کوشش کرے گا اور وہ انہیں لڑائیوں میں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرؔ دیں گے* صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہوگا اور اس کے دل میں زندگی کی ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ خیال نہ گذرے کہ ان دونوں مقامات کے بعد میں جہنم کا ذکر ہے اور بظاہر سیاق کلام چاہتا ہے کہ یہ قصہ آخرت سے متعلق ہو مگر یاد رہے کہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صدہا نظیریں اس کی پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے۔ اور ہریک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے۔ اس طرز سے سارا قران شریف بھرا پڑا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔ جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کرکے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہوگا۔ منہ