ان چیزوں کی خاصیت میں کبھی تصرف نہ کرے!!! اس لزوم پر دلیل کیا ہے۔ اور وجہ کیا اور خدا تعالیٰ کو اس بے وجہ التزام کی جو اس کی خدائی کو بھی داغ لگاتا ہے ضرورت کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالہ میں سیّد صاحب بھی اس کمزور خیال کے بودے پن کو سمجھ گئے ہیں اس لئے اپنے رکیک قول کے قائم رکھنے کے لئے انہوں نے ایک اور رکیک عذر پیش کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی جگہ آگ کے گرم ہونے بقیہ حاشیہ : اس قسم کے ظہور میں آتے ہیں کہ پانی ان کو ڈبو نہیں سکتا اور آگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اس میں بھی دراصل یہی بھید ہے کہ حکیم مطلق جس کی بے انتہا اسرار پر انسان حاوی نہیں ہو سکتا اپنے دوستوں اور مقربوں کی توجّہ کے وقت کبھی یہ کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ وہ توجّہ عالم میں تصرف کرتی ہے اور جن ایسے مخفی اسباب کے جمع ہونے سے مثلاً آگ کی حرارت اپنے اثر سے رک سکتی ہے خواہ وہ اسباب اجرام علوی کی تاثیریں ہوں یا خود مثلاً آگ کی کوئی مخفی خاصیت یا اپنے بدن کی ہی کوئی مخفی خاصیت یا ان تمام خاصیتوں کا مجموعہ ہو وہ اسباب اس توجّہ اور اس دعا سے حرکت میں آتی ہیں۔ تب ایک امر خارق عادت ظاہر ہوتا ہے مگر اس سے حقائق اشیاء کا اعتبار نہیں اٹھتا اور نہ علوم ضائع ہوتے ہیں بلکہ یہ تو علوم الٰہیہ میں سے خود ایک علم ہے اور یہ اپنے مقام پر ہے اور مثلاً آگ کا محرق بالخاصیت ہونا اپنے مقام پر۔ بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ روحانی مواد ہیں جو آگ پر غالب آکر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور اپنے وقت اور اپنے محل سے خاص ہیں۔ اس دقیقہ کو دنیا کی عقل نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کامل خداتعالیٰ کی روحؔ کا جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایساوقت آجاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر یک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خداتعالیٰ سے۔ اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو ، آگ میں ڈال دو وہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس وقت خداتعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے اور ہریک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔ یہ معرفت کا اخیری بھید ہے جو بغیر صحبت کاملین سمجھ میں نہیں آسکتا۔ چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھر نہایت درجہ نادر الوقوع ہے اس لئے ہرایک فہم اس فلاسفی سے آگاہ نہیں مگر یاد رکھو کہ ہریک چیز خداتعالیٰ کی آواز سنتی ہے ہر یک چیز پر خداتعالیٰ کا تصرف ہے اور ہریک چیز کی تمام ڈوریاں خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑ تک پہنچی ہوئی ہے اورہر یک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔ جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو