پس اس سے زیاد ہ تر صاف اور منکشف اور کیاپیشگوئی ہوگی چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے ۱؂ یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بے کار ہوجائے گی یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے اس سے یقینًا یہ استدلال کرنا چاہیئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کاحال بتلا رہی ہے اوراجمالًا مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے پھر لوگ باوجود ان آیات بیّنات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں ان پیشگوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں اب منصفین سوچ لیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی نسبت جن کی غیبی باتیں پوری ہوتی آنکھ سے دیکھی گئیں شک کرنا اگر حماقت نہیں تو اورؔ کیاہے۔ اِس قدر جو مَیں نے احادیث کی رو سے مسیح موعود کی پیشگوئی کے بارے میں لکھا ہے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے شخص کے تسلی یاب ہونے کے لئے کافی ہے جو صداقت کو پا کر پھر ناحق کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ اور مَیں نے اِس جگہ اصل الفاظ احادیث کو نقل نہیں کیا اور نہ تمام احادیث کے خلاصہ کو لکھا ہے کیونکہ یہ حدیثیں ایسی مشہور اور زبان زد خلائق ہیں کہ دیہات کے چھوٹے چھوٹے طالب العلم بھی اِن کو جانتے ہیں اور اگر مَیں تمام احادیث کو جو اِس باب میں آئی ہیں اِ س مختصر رسالہ میں لکھتا تو شائد میں جزو تک بھی لکھ کر فارغ نہ ہو سکتا لیکن مَیں ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ضرور وہ صحاح ستہ کی اصل کتابیں یا ان کے تراجم کو غور سے دیکھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کس کثرت سے اور کس قوت بیان کے ساتھ اِس قسم کی احادیث موجود ہیں۔ دُوسرا امر تنقیح طلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں مسیح موعود کی نسبت کچھ ذکر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ دلائل قطعیہ نے اِس طرح پر دیا ہے کہ ضرور یہ ذکر قرآن میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ان آئندہ پیشگوئیوں پر غور کرے گا جو اس امت کے آخری زمانہ کی نسبت اس مقدس کتاب میں ہیں تو اگر وہ فہیم اور زندہ د ل اپنے سینہ میں رکھتا ہے تو اس کو اِس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہو گا کہ قرآن کریم میں یقینی اور قطعی طور پر ایک ایسے مصلح کی خبر موجود ہے جس کا دُوسرے