ماسوا اس کے ان پیشگوئیوں میں ان کی صداقت کیلئے ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ دنیوی انقلابات کے متعلق جو کچھ ان میں درج تھا اوربظاہر وہ سب ناشدنی باتیں تھیں وہ تمام باتیں پُوری ہوگئی ہیں کیونکہ تیرھویں صدی کی ابتدا سے ہی ہر یک اندرونی اوربیرونی آفت میں ترقی ہونے لگی یہاں تک کہ تیرھویں صدی کے خاتمہ تک گویادین اور اسلامی شوکت اورحکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ بلائیں مسلمانوں کے دین اور دُنیا پر نازل ہوئیں کہ گویا اُن کاجہان ہی بدل گیا۔ جب ہم ان بلاؤں کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر پھر ان پیشگوئیوں پرنظر ڈالتے ہیں جو امام بخاری اور مسلم وغیرہ نے اس وقت سے قریبًا گیارہ سو برس پہلے لکھی تھیں اورؔ اس زمانہ میں لکھی تھیں کہ جب اسلام کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی اندرونی حالت گویا حُسن میں رشکِ یوسف تھی اور اس کی بیرونی حالت اپنی شوکت سے اسکندر رومی کو شرمندہ کر تی تھی تو اپنے نبی کریم کی کامل اور پا ک وحی اور عظمت اور جلال اور قوت قدسیہ کو یاد کر کے ہماری رِقّت ایمانی جوش میں آتی ہے اور بلا اختیار رونا آتاہے۔ سُبحان اللّٰہ وہ کیانور تھا جس پر آج سے تیرہ سو برس پہلے قبل از وقت ظاہر کیا گیا کہ اس کی اُمت ابتدا میں کیونکرنشوونما کرے گی اور کیونکر خارق عادت طورپر اپنی ترقی دکھلائے گی اور کیونکر آخر ی زمانہ میں یک دفعہ نیچے گرے گی اور پھر کیونکر چندصدیوں میں قوم نصاریٰ کا تمام روئے زمین پر غلبہ ہوجائے گا اور یادرہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا لیترکن القلاص فلا یسعٰی علیھایعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اُونٹنی کی سواری موقوف ہوجائے گی پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اُونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑ ے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمنًا آجاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی جیساکہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریبًا وہ تمام کام جو اُونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں۔