شدّت سے مشابہت پَیدا کرلیں گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہے تو وہ بھی کریں گے۔ اورایساہی اس زمانہ میں قوم نصاریٰ دُنیا میں پھیل جائے گی اور دُوسری قوموں کو مغلوب کر لے گی اوردین کی محبّت دلوں سے ٹھنڈی ہو جائے گی اور زہرناک ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے دین اسلام ایک مسلسل اورغیر منقطع خطرات میں پڑجائے گا۔ تب مصیبتیں پڑیں گی اور آفتیں زیادہ ہوں گی اورمسلمانوں کے دِلوں سے تقویٰ جاتی رہے گی اوربہتر ہو گا کہ ایک شخص اکیلا بسر کرے اوربکریوں کے دُودھ پر قناعت رکھے اورمسلمانوں کی جماعت کا نام نہ لیوے۔ اور فرمایا کہ جب تُو ایسا حال دیکھے تو ان سب فرقوں کو چھوڑ ؔ دے اور کسی درخت کی جڑھوں کو دانت مار یہاں تک کہ تیری جان نکل جائے اورپھر اِسی ضمن میں مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اورفرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا اورفرمایا کہ وہ اُن کی صلیب کو توڑ ے گا۔ اوریہ نہ فرمایا کہ وہ اُن کی حکومت کو پامال کرے گا۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود کی سلطنت روحانی ہو گی اور اس دُنیا کی حکومتوں سے اس کو کچھ بھی سرو کار نہ ہوگا بلکہ وہ اپنی برکات کے زور سے لڑ ے گااوراپنے خوارق کے ہتھیاروں سے میدان میں آئے گا یہاں تک کہ صلیب کی رونق اور عظمت کو توڑ دے گا اورعیسائیت کے بے برکت اور منحوس عقیدوں کا پردہ کھول دے گا کیونکہ اس کا نُور ایک تلوار کی طرح چمکے گا اورجس طرح بجلی گرتی ہے اُسی طرح کُفر کی ظلمت پر گرے گا یہاں تک کہ حق کے طالب سمجھ جائیں گے کہ وہ زندہ خدا اسلام کے ساتھ ہے۔ یہ تمام پیشگوئیاں احادیث میں ایک دریا کی طرح بہ رہی ہیں اور ایک دوسرے سے اُن کا ایسا تعلق ہے کہ ایک کی تکذیب سے دُوسری کی تکذیب لازم آتی ہے اور ایک کے ماننے سے دوسری بھی ماننی پڑتی ہے پھر ایسی مسلسل اورمرتب اورمحکم اوربانظام پیشگوئیوں میں کون شک کر سکتاہے بجُز اس کے کہ پاگلوں سے زیادہ مخبط الحواس ہو کیا کوئی دانا ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ تجویز کر سکتا ہے کہ یہ ہزار ہا پیشگوئیاں جو خارق عادت امورپرمشتمل ہیں صرف انسا ن کا افتراہے۔ سچ بات یہ ہے کہ مرتب اور بانظام اورعظیم الشان باتوں کا انکار ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اُنکے انکار سے ایک انقلاب عظیم لازم آتا ہے اور ایک دُنیا کو بدلانا پڑتاہے۔