اس میں بھی یہ الفاظ کہیں صراحتًا اور کہیں اشارۃً موجود تھے کہ وہ مسیح موعود ایسے وقت میں آئے گا کہ جب حکومت اور قُوّت نصاریٰ کی تمام رُوئے زمین پر پھیلی ہوئی ہو گی اور ریل جاری ہو گی اور اکثر زمین کے حصّے زیر کاشت آجائیں گے اور کاشتکاری کی طرف لوگ بہت متوجہ ہوں گے یہاں تک کہ بیل مہنگے ہوجائیں گے اورزمین پر نہروں کی کثرت ہوجائے گی اور دنیوی حالت کی رُو سے امن کا زمانہ ہوگا ۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی ہمارے زمانہ میں پُوری ہو گئی کیونکہ عیسائی سلطنت کا ستارہ اس زمانہ میں ایسے عروج پر پہنچ گیا ہے کہ گویا اس کے سامنے تمام حکومتیں اورؔ ریاستیں کالعدم ہیں اور ریل کی سواری اورنہریں اورکثرت کاشتکاری بھی ہم نے آنکھ سے دیکھ لی۔ اب سوچو کہ کیا اِس پیشگوئی میں وہ غیب کی باتیں نہیں جو انسا ن کی طاقت سے بالاتر ہیں۔ کیا اسلام کی یہ حالتِ تنزّل اُس زمانہ میں جبکہ اسلام کی شمشیر بجلی کی طرح کفّار پر پڑ رہی تھی کسی کو معلوم تھی؟ کیا کوئی نوع انسا ن میں سے ایسے غیب پر قادر ہوسکتا ہے کہ ایسی نئی سواری کی خبر دے جس کا پہلے وجود ثابت نہیں ہوتا۔ نظر اُٹھاؤ اور دیکھو اور خوب سوچو کہ کیا یہ پیشگوئی ان عظیم الشان پیشگوئیوں میں سے نہیں ہے جو ان کی حقیقت اوران کے ظہور پر صرف خداتعالیٰ کا علم ہی محیط ہوتا ہے اورانسان کی کارستانیاں اورمخلوق کے ضعیف منصوبے اس پر مشتبہ نہیں ہوسکتے واضح رہے کہ ان پیشگوئیوں کا ایک عجیب سلسلہ ہے اور ایک نہایت درجہ کی ترتیب ابلغ اورترکیب محکم سے معارف لطیفہ اور نکا ت دقیقہ اور امورغیبیہ کے ساتھ مرصع کر کے ذکر فرمایا گیا ہے جس کی بلند شان تک ہرگز انسان کی رسائی نہیں مثلًا اوّل وہ پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا اور انہیں پیشگوئیوں کے ضمن میں فرمایا کہ کسریٰ ہلاک ہوگا اورپھر بعد اس کے کسریٰ نہیں ہوگا۔ اورقیصر ہلاک ہوگا اور پھر بعد اس کے قیصر نہیں ہوگا اور اسلام ترقی کرے گا اور پھیلے گا اور ہر یک قوم میں داخل ہوگا۔ اور پھر فرمایا کہ اِس اُمّت پر ایک آخری زمانہ آئے گا کہ اکثر علماء اِس اُمت کے یہود کے مشابہ ہوجائیں گے اور دیانت اورتقویٰ ان میں سے جاتی رہے گی جُھوٹے فتوے اور مکاریاں اورمنصوبے اُن کا دین ہوگا اور دنیوی لالچوں میں گرفتار ہوجائیں گے اور یہود کے ساتھ