اگر کوئی امر اپنی کوشِش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اُس کو کروڑہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کر کے پَیدا کیا اور روایات صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ایک ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایاجاتاہے اسناد کو دکھایا۔علاوہ اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افترا کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں اُنہوں نے اس پر اتفاق کر لیا اورکس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیاتھا۔پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دُوسری طرف ایسی حدیثیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں جن میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہؔ آخری زمانہ میں علماء اِس امت کے یہودی صفت ہوجائیں گے اور دیانت اور خداترسی اور اندرونی پاکیزگی اُن سے دُور ہوجائے گی اور اُس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بہت غلبہ ہوگا اور صلیبی مذہب کی حکومت اورسلطنت تقریبًا تمام دنیا میں پھیل جائے گی تو اور بھی ان احادیث کی صحت پر دلائل قاطعہ پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اورہمارے اِس زمانہ کے علماء درحقیقت یہودیوں سے مشابہ ہو گئے اور نصاریٰ کی سلطنت اور حکومت ایسی دُنیا میں پھیل گئی کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ پھرجس حالت میں ایک جُز اُس پیشگوئی کا صریح اور صاف اوربدیہی طورپر پُورا ہو گیا تو پھر دُوسری خبر کی صداقت میں کیاکلا م رہا۔ یہ بات تو ہر یک عاقل کے نزدیک مسلّم ہے کہ اگر مثلًا ایک حدیث احاد میں سے ہو اور سلسلہ تعامل میں بھی داخل نہ ہو مگر ایک پیشگوئی پر مشتمل ہو کہ وہ اپنے وقت پر پُوری ہو جائے یا اُس کا ایک جُز پُورا ہو جائے تواس حدیث کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ مثلًا نار حجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریبًا چھ 3 برس گذرنے کے بعد بعینہٖ پُوری ہوگئی جس کے پُورے ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اوراُس زمانہ میں پُوری ہوئی کہ جب صدہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے تو کیاان حدیثوں کی نسبت اب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ احاد ہیں اس لیے یقینی طورپر قبول کے لائق نہیں۔ کیونکہ جب اُن کی صداقت کُھل گئی تو پھر ایسا خیال دل میں لانا نہایت بُری اورمکروہ نادانی ہے۔ پس ایسا ہی مسیح موعود کی پیشگوئی میں سوچ لو کہ