بکلّی غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہے یہی ہے کہ آئمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اس قدر کہ وہ امورجو ابتدا سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دُنیا اُن کو مانتی تھی اُن کی اسناد کے بارے میں اُن لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیاکہ اُس زمانہ کی موجودہ حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لارہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہوگئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرتصلعمنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعلیم فرمائی تھی۔
افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کوتہ اندیش لوگوں نے کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی و جہ سے آج تک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں اگر چہ یہ تو سچ ہے کہؔ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی وفعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پرمسلم نہیں ہو سکتا لیکن و ہ دوسر احصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اورکروڑہا مخلوقات ابتدا سے اُس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنّی اور شکّی کیونکر کہا جائے۔ ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اوردادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طورپر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرّہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل در آمد کو اول درجہ کے 3میں سے یقین کرے پھر جبکہ اَئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اورامور تعاملی کا اسناد راست گو اورمتدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اورعقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔
اب اِس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہو کہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف اَئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ یپشگوئی عقیدہ کے طورپر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اُسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور اَئمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیشگوئی کی نسبت