نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔ یہ بات ہر ایک کوماننی پڑتی ہے کہ اس مقد س معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسابگڑتاکہ کسی مُحدّث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہوسکتا تھا۔ اگرچہ آئمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو ان کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دُنیا اس مضمون سے غافل تھی اگر کوئی ایسی تعلیم یاایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بنا ء پر رکھی ہے اورتعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثرونشان دکھائی نہیں دیتا اورنہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکرپایا جاتاہے تو بلا شبہ ایسی خبر واحدجس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہو گی اور جو کچھ اُس کی ناقابل تسلّی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں درحقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھؔ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگرسوچ کر دیکھو تو اَئمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سلسلہ میں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔ پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیںیہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ دُنیا نے دین کے صدہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ بھی صرف امام بخاری اورمُسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔ کیا سو ڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے زکوٰۃ نہیں دیتے تھے۔ حج نہیں کرتے تھے اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے حاشا وکلّا ہرگز نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرے اس کا حمق ایک تعجب انگیز نادانی ہے۔ پھر جبکہ بخاری اورمسلم وغیرہ اَئمہ حدیث کے زمانہ سے پہلے بھی اسلام ایسا ہی سرسبز تھا جیساکہ ان اماموں کی تالیفات کے بعد توپھر یہ خیال کس قدر بے تمیزی اورناسمجھی ہے کہ سراسر تحکم کی راہ سے یہ اعتقاد کرلیا جائے کہ صرف دوسری صدی کی روایتوں کے سہارے سے اسلام کا وہ حصہ پُھولا پَھلا ہے جس کو حال کے زمانہ میں احادیث کہتے ہیں اور افسوس تو یہ کہ مخالف تو مخالف ہمارے مذہب کے بے خبر لوگوں کو بھی یہی دھوکا لگ گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا ایک مدّت کے بعد صرف حدیثی روایات کے مطابق بہت سے مسائل اسلام کے ایسے لوگوں کو تسلیم کرائے گئے ہیں کہ جو اُن حدیثوں کے قلمبند ہونے سے پہلے اُن مسائل سے