حدیث کے مضمون کے لئے ہزار ہزار یا دو دو ہزار طرق اسناد بہم پہنچادیں مگر کیا یہ بھی سچ ہے کہ اِس نماز کی بنیاد ڈالنے والے وہی محدّث تھے اورپہلے اُس سے دنیا میں نماز نہیں ہوتی تھی اور دنیا نماز سے بالکل بے خبر تھی اورکئی صدیوں کے بعدصرف ایک دو حدیثوں پر اعتبار کرنے سے نماز شروع کی گئی۔ پس مَیں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکا ہوگا اگر یہ خیال کرلیا جائے گا کہ صرف مدار ثبوت ان رکعات اورکیفیت نماز خوانی کا اُن چند حدیثوں پر تھا جو بنظر ظاہر احاد سے زیادہ معلوم نہیں ہوتیں اگر یہی سچ ہے تو سب سے پہلے فرائض اسلام کیلئے ایک سخت اور لا علاج ماتم درپیش ہے جس کی فکر ایک مسلمان کہلانیوالے ذی غیرت کو سب سے مقدم ہے مگر یاد رہے کہ ایسا خیال فقط ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کبھی بیدار ہو کر سوانح اور واقعات اور رسوم اور عباداتِ اسلام کی طرف نظر نہیں کی کہ کیونکر اور کس طریق سے یقینی امور کا ان کو مرتبہ حاصل ہوا۔
سو واضح ہو کہ اس یقین کے بہم پہنچانے کیلئے تعامل قومی کا سلسلہ نہات تسلّی بخش نمونہ ہے مثلًا وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ نماز فجر کی اس قدر رکعت اورنماز مغرب کی اِس قدر رکعات ہیں اگرچہ فرض کرو کہ ایسی حدیثیں دو یا تین ہیں اور بہر حال احاد سے زیادہ نہیں مگر کیااِس تحقیق اور تفتیش سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے ؔ تھے اورحدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پتہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئیں تھیں بلکہ کروڑہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔ تاہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتًا بعد وقتٍ اورقرنًا بعد قرنٍ یہی چلی آئی ہے۔ ہاں احادیث کی اسناد مرفوعہ متصلہ نے اس سلسلہ کو نورٌعلٰی نورکر دیا ۔ پس اگر اس قاعدہ سے احادیث کو دیکھا جائے تو اُن کے اکثر حصہ کو جس کا معین اورمددگار سلسلہ تعامل ہے احاد کے نام سے یاد کرنا بڑی غلطی ہوگی اور درحقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اِس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دُور ڈالدیا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وُہ تمام سنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اورتواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیاتھا کہ اگر محدثین کا دُنیا میں نام ونشان بھی