ٹھہر گئی تھیں انکی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے مثلًا آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پنج نمازیں جو مسلمان پنج وقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکّی امر ہے کیونکہ مثلًا قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دو رکعت پڑھا کرو اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو ۔ رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں تو کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہوگا۔ اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا صرف یہ نمازیں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں اب اگر مخالف یہی اعتراض کرے کہ قرآن نے نماز کا طریق نہیں سکھلایا اور جس طریق کو مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ مردُود ہے کیونکہ احادیث قابل اعتبار نہیں توہم ایسے اصول پر آپ ہی پابند ہونے سے کہ بے شک احادیث کچھ بھی چیز نہیں اِس اعتراض کا کیاجواب دے سکتے ہیں بجُز اسکے کہ اعتراض کو قبول کر لیں بلکہ اِس صورت میں اسلام کی نماز جنازہ بھی بالکل بیہودہ ہوگی کیونکہ قرآن میں اِس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ کوئی ایسی نماز بھی ہے کہ جس میں سجدہ اور کوع نہیں۔ اَب سوچ کر دیکھ لو کہ احادیث کے چھوڑنے سے اسلام کا کیا باقی رہ جاتاہے۔ اورخود یہ بات قلّت تدبّر کا نتیجہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کا ماحصل صرف اسقدر ہے کہ ؔ محض ایک یا دو آدمی کے بیان کومعتبر سمجھ کے اُس کی روایت کو قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال کر لیا جائے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ احادیث کا سلسلہ تعامل کے سلسلہ کی ایک فرع اور اطراد بعد الوقوع کے طورپر ہے مثلًا محدّثین نے دیکھا کہ کروڑہا آدمی مغرب کے فرض کی تین رکعت پڑھتے ہیں اورفجرکی دو اور مع ذالک ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں اور آمین بھی کہتے ہیں گوبالجہر یا بالسّر اور قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھتے ہیں اور ساتھ اسکے درود اور کئی دعائیں ملاتے ہیں اور دونوں طرف سلام دے کر نماز سے باہر ہوتے ہیں۔ سو اِس طرز عبادت کو دیکھ کرمحدثین کو یہ ذوق اور شوق پیدا ہوا کہ تحقیق کے طور پر اس وضع نماز کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاویں اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے اس کو ثابت کریں۔ اب اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ انھوں نے ایسے سلسلہ کی بہم رسانی کے لئے یہ کوشش نہیں کی کہ ایک ایک