اور یہ بات کہ گو وہ قادر ہو مگر کرنا نہیں چاہتا یہ عجیب بے ہودہ الزام ہے جب کہ اس کی صفات میں۱؂ بھی داخل ہے۔ اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے۔ یا آگ سے خاصیت احراق زائل کر دیوے اس کی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کی منافی نہیںؔ ہیں تو پھر کیوں تحکم کی راہ سے کہا جائے کہ ہمیشہ کے لئے اس پر لازم ہوگیا ہے کہ بقیہ حاشیہ : یہ سب چیزیں بوجہ وحدت مبدء فیض اپنی اصل ماہیت میں ایک ہی ہیں گو ان چیزوں کا کامل کیمیا گر انسان نہیں بن سکتا اور کیونکر بنے حکیم مطلق نے اپنے اسرار حکمیہ غیر متناہیہ پر کسی دوسرے کو محیط نہیں کیا۔ اور اگر یہ کہو کہ اجرام علوی میں استحالات کہاں ہیں تو میں کہتاؔ ہوں کہ بیشک ان میں بھی استحالات اور تحلیلات کا مادہ ہے گو ہمیں معلوم نہ ہو تبھی تو ایک دن زوال پذیر ہو جائیں گے۔ ماسوا اسکے ہزار ہا چیزوں کے استحالات پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ کوئی چیز استحالہ سے خالی نہیں۔ سو تم پہلے زمین کے استحالات سے انکار کرلو پھر آسمان کی بات کرنا ۔ تو کار زمین را نکو ساختی کہ با آسماں نیز پرداختی غرض جب انواع اقسام کے استحالات ہر روز مشاہدہ میں آتے ہیں اور وحدت ذاتی الہٰی کا یہ تقاضا بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا منبع اور مبدء ایک ہو اور خدا تعالیٰ کی الوہیت تامہ بھی تبھی قائم رہ سکتی ہے کہ جب ذرہ ذرہ پر اس کا تصرف تام ہو تو پھر یہ استبعاد اور یہ اعتراض کہ ان استحالات سے امان اٹھ جائے گا اور علوم ضائع ہوں گے اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے اور ہم جو کہتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہ قادر ہے کہ پانی سے آگ کا کام لیوے یا آگ سے پانی کا کام تو اس سے یہ مطلب تو نہیں کہ اپنی حکمت غیر متناہی کو اس میں دخل نہ دے یونہی تحکم سے کام لے لیوے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل آمیزش حکمت سے خالی نہیں اور نہ ہونا چاہئے بلکہ ہمارا یہ مطلب ہے کہ جس وقت وہ پانی سے آگ کا کام یا آگ سے پانی کا کام لینا چاہے تو اس وقت اپنی اس حکمت کو کام میں لائے گا جو اس عالم کے ذرہ ذرہ پر حکومت رکھتی ہے گو ہم اس سے مطلع ہوں یا نہ ہوں اور ظاہر ہے کہ جو حکمت کے طور پر کام ہو وہ علوم کو ضائع نہیں کرتا بلکہ علوم کی اس سے ترقی ہوتی ہے۔ دیکھو مصنوعی طور پر پانی کی برف بنائی جاتی ہے یا برقی روشنی پیداؔ کی جاتی ہے۔ تو کیا اس سے امان اٹھ جاتا ہے یا علم ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس جگہ ایک اور سرّ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ اولیاء سے جو خوارق کبھی