جو فریق عمدًا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اورسچے خدا ؔ کوچھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دِنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دِن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵۔ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذِلّت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طر ف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اورسچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشیگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سُوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اوربعض بہر ے سُننے لگیں گے۔ اِسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو الحمد للّٰہ والمنّۃ کہ اگر یہ پیشینگوئی اللہ تعالےٰ کی طرف سے ظہورنہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے اِنسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جُرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اورنہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اَب مَیں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔ مَیں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اَور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کُھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ مَیں اِسوقت اقرارکرتاہوں