تباہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہونگے اور جیساکہ ۱ ۲۶ میں اشارہ ہے اور پھر فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرمایا ۲ ۱۹اورپھر اس کی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو اس کی نظیر دو ۔ پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اورکیامعنی ہو سکتے ہیں؟ خاص کر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اس کی نظیرپیش کرو۔ تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتاہے۔ بالآخر چونکہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات سے عمدًا منکر ہیں اور اس کی پیشیگوئی سے بھی انکاری ہیں اورمجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دینِ اسلام سچا ہے اورتم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھے کر کے دکھلاؤ حالانکہ میرا یہ دعویٰ نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا۔ بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی انجیل میں ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ سچے ایماندار ہوں تووہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اوربہروں کو اچھاکریں گے ۔ مگر تاہم مَیں اِس کے لئے دعا کرتا رہا۔ اور
آج رات جو مجھ پر کُھلاوہ یہ ہے کہ جب کہ مَیں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر اورہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طورپر دیاہے کہ اِس بحث میں دونوں فریقوں میں سے