کہا کہ اِس شخص کو نہیں جانتا۔ پھر جبکہ ابتداسے زمانہ کا یہ حال تھا۔یہاں تک کہ تجہیز و تکفین تک میں بھی شریک نہ ہوئے تو پھر اس زمانہ کا کیا حال ہوگا جبکہ حضرت مسیح ان میں موجود نہ رہے۔ مجھے زیادہ لکھانے کی ضرورت نہیں۔ اِ س بارہ میں بڑے بڑے علماء عیسائیوں نے اِسی زمانہ میں گواہی دی ہے کہ حواریوں کی حالت صحابہ کی حالت سے جس وقت ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں شرمندگی کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حواریوں کی حالت اُن کے مقابل پر ایک قابل شرم عمل تھا۔ پھر آپ قرآنی معجزات کا انکار کرتے ہیں آپ کو معلوم نہیں کہ وہ معجزات جس تواتر اور قطعیت سے ثابت ہو گئے اُن کے مقابل پر کسی دوسرے کے معجزات کا ذکر کرنا صر ف قصّہ ہے اِ س سے زیادہ نہیں۔ مثلًا ہمارے نبی صلعم کا اس زمانہ میں اپنی کامل کامیابیوں کی نسبت پیشگوئی کرنا جو قرآن شریف میں مندرج ہے یعنی ایسے زمانہ میں کہ جب کامیابی کے کچھ بھی آثار نظرنہیں آتے تھے۔ بلکہ کفار کی شہادتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کہ وہ بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ اب یہ دین جلد تباہ ہو جائے گا اورناپدید ہوجائے گا ایسے وقتوں میں انکوسنایاگیاکہ ۱ ۱۰ یعنی یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہوگی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاویگا۔ لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اورنہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے۔ پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے۔۔۔۲ الخ ۱۸ یعنی خدا ؔ وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلعم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا۔ یعنی جس طرح موسٰیؑ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایساہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔اَب قرآن شریف موجود ہے حافظ بھی بیٹھے ہیں دیکھ لیجئے کہ کفار نے کس دعوے کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشینگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہرگز