ایک شق عفو اوردرگذرپر زور ڈال رہی تھی اور گویا ان کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کی تربیت کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا صرف ایک ایک شاخ پر کفایت کی گئی تھی لیکن قرآن کریم انسانی درخت کی تمام شاخوں یعنی تمام قویٰ کو زیر بحث لایا اورتمام کی تربیت کے لئے اپنے اپنے محل و موقع پر حکم دیا۔ جِسکی تفصیل ہم اس تھوڑے سے وقت میں کر نہیں سکتے۔ انجیل کی کیا تعلیم تھی جس پر مدار رکھنے سے سلسلہ دُنیا کا ہی بگڑتا ہے اور پھر اگر یہی عفو اور درگذر عمدہ تعلیم کہلاتی ہے تو جین مت والے کئی نمبر اس سے بڑھے ہوئے ہیں جو کیڑے مکوڑوں اورجوؤں اور سانپوں تک آزار دینانہیں چاہتے۔ قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے ۔یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کیلئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اٹھا تا۔ اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلادیا ہے اور آیت ۱؂ ۳۱۵میں اہل کتاب پریہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ ؔ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں۔ ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے کمالات میں تیسرا حصّہ اس کی تاثیرات ہیں اگر حضرت مسیح کے حواریوں اورہمارے نبی صلعم کے صحابہ کا ایک نظر صاف سے مقابلہ کیا جائے تو ہمیں کچھ بتلانے کی حاجت نہیں اس مقابلہ سے صاف معلوم ہوجائے گا کہ کس تعلیم نے قُوّت ایمانی کو انتہا تک پہنچا دیاہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے اس تعلیم کی محبت سے اور رسول کے عشق سے اپنے وطنوں کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیا اپنے آراموں کو بڑی راحت کے ساتھ ترک کر دیا۔ اپنی جانوں کو فدا کر دیا۔ اپنے خونوں کو اس راہ میں بہا دیا اورکس تعلیم کا یہ حال ہے۔ اس رسول کو یعنی حضرت مسیح کو جب یہودیوں نے پکڑا تو حواری ایک منٹ کے لئے بھی نہ ٹھہرسکے۔ اپنی اپنی راہ لی اور بعض نے تیس روپیہ کے کر اپنے نبی مقبول کو بیچ دیا۔ اور بعض نے تین دفعہ انکار کیااورانجیل کھول کر دیکھ لو کہ اس نے *** بھیج کر اور قسم کھا کر