کہ پرمیشور ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کرنے والا نہیں تو اس صورت میں بلاشبہ ایسا کمزور پرمیشور کسی حد تک کچھ ضعیف سی حکومت کر کے پھر ٹھہر جائے گا۔ اور ایک رسوائی کے ساتھ اس کی پردہ دری ہوگی۔ مگر ہمارا خداوند قادر مطلق ایسا نہیں ہے۔ وہ تمام ذرات عالم اور ارواح اور جمیع مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی قدرت کی نسبت اگر کوئی سوال کیا جائے تو بجز اُن خاص باتوں کے جو اسکی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کے منافی ہوں۔ باقی سب امور پر وہ قادر ہے
بقیہ حاشیہ : خدا تعالیٰ اپنی مخفی حکمتوں کے تصرف سے عناصر وغیرہ کو صدہا طور کے استحالات میں ڈالتا رہتا ہے ایک زمین کو ہی دیکھو کہ وہ انواع اقسام کے استحالات سے کیا کچھ بنتی رہتی ہے اسی سے سم الفار نکل آتا ہے اور اسی سے فاذ زہر اور اسی سے سونا اور اسی سے چاندی اور اسی سے طرح طرح کے جواہرات اور ایسا ہی بخارات کا صعود ہوکر کیا کیا چیزیں ہیں جو جَوّ آسمان میںؔ پیدا ہو جاتی ہیں انہیں بخارات میں سے برف گرتی ہے اور انہیں سے اولے بنتے ہیں اور انہیں میں سے برق اور انہیں میں سے صاعقہ اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کبھی جَوّ آسمان سے راکھ بھی گرتی ہے تو کیا ان حالات سے علم باطل ہو جاتے ہیں یا امان اٹھ جاتا ہے اور اگر یہ کہو کہ ان چیزوں میں تو خداتعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کی فطرت میں ان تمام استحالات کا مادہ رکھا ہے تو ہمارا یہ جواب ہوگا کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا ہے کہ اشیاء متنازعہ فیہا میں ایسا مادّہ متشارکہ نہیں رکھا گیا بلکہ صحیح اور سچا مذہب تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو اپنی ذات میں واحد ہے تمام اشیاء کو شئے واحد کی طرح پیدا کیا ہے تا وہ موجد واحد کی وحدانیت پر دلالت کریں۔ سو خدا تعالیٰ نے اسی وحدانیت کے لحاظ سے اور نیز اپنی قدرت غیر محدودہ کے تقاضا سے استحالات کا مادہ اُن میں رکھا ہے اور بجز اُن روحوں کے جو اپنی سعادت اور شقاوت میں ؔ ۱کے مصداق ٹھہرائے گئے ہیں اور وعدہ الٰہی نے ہمیشہ کے لئے ایک غیر متبدل خلقت ان کے لئے مقرر کر دی ہے باقی کوئی چیز مخلوقات میں سے استحالات سے بچی ہوئی معلوم نہیں ہوتی بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو ہر وقت ہر یک جسم میں استحالہ اپنا کام کر رہا ہے یہاں تک کہ علم طبعی کی تحقیقاتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تین برس تک انسان کا جسم بدل جاتا ہے اور پہلا جسم ذرات ہوکر اڑ جاتا ہے۔ مثلاً اگر پانی ہے یا آگ ہے تو وہ بھی استحالہ سے خالی نہیں اور دو طور کے استحالے ان پر حکومت کر رہے ہیں ایک یہ کہ بعض اجزا نکل جاتے ہیں اور بعض اجزا جدیدہ آملتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو اجزا نکل جاتے ہیں وہ اپنی استعداد کے موافق دوسرا جنم لے لیتے ہیں۔ غرض اس فانی دنیا کو استحالات کے چرخ پر چڑھائے رکھنا خدا تعالیٰ کی ایک سنت ہے اور ایک باریک نگاہ سے معلوم ہوتا ہے کہ