کہہ دیتے ہیں اور زمین کو ساکن کہہ دیتے ہیں پس جب کہ انہیں اقسام میں سے یہ بھی ہے تو اس سے کیوں انکار کیا جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ کلام مجسم بھی ایک استعارہ ہے مگر کوئی شخص ثبوت دے کہ دنیا میں یہ کہاں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص کلام مجسم ہو کر آیا ہے اورگوڈنس کی تاویل پھر آپ تکلف سے کرتے ہیں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ گوڈنس یعنی احسان کوئی صفت صفات ذاتیہ میں سے نہیں ہے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے رحم آتاہے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے احسان آتا ہے مگر آپ پوچھتے ہیں کہ اگریونہی بغیر کسی کی مصیبت دیکھنے کے اس سے خوش سلوکی کی جائے تو اس کو کیا کہیں گے۔ سو آپ کویاد رہے کہ وہ بھی رحم کے وسیع مفہوم میں داخل ہے کوئیؔ انسان کسی سے خوش سلوکی ایسی حالت میں کرے گا کہ جب اول کوئی قوت اس کے دل میں خوش سلوکی کے لیے وجوہات پیش کرے اور اس کو خوش سلوکی کرنے کے لئے رغبت دے تو پھر قوت رحم ہے جو نوع اِنسان کی ہر ایک قسم کی ہمدردی کے لئے جوش مارتی ہے اورجب تک کوئی شخص قابل خوش سلوکی کے قرار نہ پاوے اورکسی جہت سے قابل رحم نہ نظر آوے بلکہ قابلِ قہر نظر آوے تو کون اس سے خوش سلوکی کرتاہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حیوانات کو قتل ہوتے دیکھ کر کیا ہم فرض کرلیں کہ خدانے ظلم کیا۔ مَیں کہتا ہوں مَیں نے کب اِس کا نام ظلم رکھا ہے مَیں تو کہتا ہوں کہ یہ عمل در آمد مالکیت کی بنا پر ہے۔ جب آپ اِس بات کو مان چکے کہ تفاوت مراتب مخلوقات یعنی انسان و حیوانات کا بوجہ مالکیت ہے اس کی تناسخ وجہ نہیں تو پھر اِس بات کو مانتے ہوئے کونسی سدّراہ ہے جو دُوسرے لوازم جو حیوان بننے سے پیش آگئے وہ بھی بوجہ مالکیت ہیں اور بالآخر قرآن کریم کے بارہ میں آپ پر ظاہر کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے اپنے کلام اللہ ہونے کی نسبت جو ثبوت دیئے ہیں۔ اگرچہ میں اس وقت اِن سب ثبوتوں کو تفصیل وار نہیں لکھ سکتا لیکن اِتنا کہتا ہوں کہ منجملہ ان ثبوتوں کے بیرونی دلائل جیسے پیش از وقت نبیوں کا خبر دینا جو انجیل میں بھی لکھاہوا آپ پاؤ گے۔ دوسرے ضرورت حقّہ کے وقت پر قرآن شریف کا آنا یعنی ایسے وقت پر جبکہ عملی حالت تمام دنیا کی بگڑ گئی تھی اورنیز اعتقادی حالت میں بھی بہت اختلاف آگئے تھے اور اخلاقی حالتوں میں بھی فتور آگیاتھا۔ تیسرے اِس کی حقّانیت کی دلیل اِس کی تعلیم کامل ہے کہ اس نے آکر ثابت کر دکھلایاکہ موسیٰ کی تعلیم بھی ناقص تھی جوایک شق سزا دہی پر زور ڈال رہی تھی اور مسیح ؑ کی تعلیم بھی ناقص تھی جو