ڈپٹی صاحب بھی ایسا پیش کریں لیکن وہ کسی موقع پر اس شرط کو پورا نہیں کر سکے۔ خیر اب ناظرین خود دیکھ لیں گے۔ اس جواب کے جواب الجواب میں صرف اتنا کہنا مجھے کافی ہے کہ ڈپٹی صاحب نے یہ جو توبہ کی سورۃ کو پیش کر دیا ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ایمان لانے پر قتل کا حکم ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے بلکہ اصل مدعا وہی اس آیتؔ سے ثابت ہوتا ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں یعنی جو شخص اپنی مرضی سے باوجود واجب القتل ہونے کے ایمان لے آوے وہ رہائی پا جائے گا۔ سوا اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ جو لوگ رعایت سے فائدہ نہ اٹھاویں اور اپنی مرضی سے ایمان نہ لاویں ان کو سزائے موت اپنے پاداش کردار میں دی جائے گی اس جگہ یہ کہاں ثابت ہوا کہ ایمان لانے پر جبر ہے۔ بلکہ ایک رعایت ہے جو ان کی مرضی پر چھوڑی گئی ہے اور سات قوموں کا جو آپ ذکر فرماتے ہیں کہ ان کو قتل کیا گیا اور کوئی رعایت نہ کی گئی یہ تو آیت کی تشریح کے برخلاف ہے دیکھو قاضیوں ۲۸و۱۳۰ کہ کنعانیوں سے جو ان ساتوں قوموں سے ایک قوم ہے خراج لینا ثابت ہے۔ پھر دیکھو یشوع ۱۶ اور قاضیوں ۱۳۵ جو قوم اموریوں سے جزیہ لیا گیا۔ پھر آپ اعادہ اس بات کا کرتے ہیں کہ قرآن نے یہ تعلیم دی ہے کہ خوفزدہ ہونے کی حالت میں ایمان کو چھپاوے۔ میں لکھ چکا ہوں کہ قرآن کی یہ تعلیم نہیں ہے قرآن نے بعض ایسے لوگوں کو جن پر یہ واقعہ وارد ہو گیا تھا ادنیٰ درجہ کے مسلمان سمجھ کر ان کو مومنوں میں داخل رکھا ہے۔ آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طبقہ کے ایماندار نہیں ہوا کرتے اور آپ اس سے بھی نہیں انکار کریں گے کہ بعض دفعہ حضرت مسیح یہودیوں کے پتھراؤ سے ڈر کر ان سے کنارہ کرگئے اور بعض دفعہ توریہ کے طور پر اصل بات کو چھپا دیا۔ اور متی ۱۶ میں لکھا ہے تب اس نے اپنے شاگردوں کو حکم کیا کہ کسوسے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں۔ اب انصاف سے کہیں کہ کیا یہ سچے ایمانداروں کا کام ہے اور ان کا کام ہے جو رسول اور مبلغ ہوکر دنیا میں آتے ہیں کہ اپنے تئیں چھپائیں۔ اس سے زیادہ آپ کو ملزم کرنے والی اور کونسی نظیر ہوگی بشرطیکہ آپ فکر کریں اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ دلدل میں آفتاب کا غروب ہونا سلسلہ مجازات میں داخل نہیں مگر عَیْنٍٍ حَمِءَۃٍ سے تو کالا پانی مراد ہے اور اس میں اب بھی لوگ یہی نظارہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور مجازات کی بنا مشاہدات عینیہ پر ہے جیسے ہم ستاروں کو کبھی نقطہ کے موافق کہہ دیتے ہیں اور آسمان کو کبود رنگ