۱۳۔ کیوں جناب آپ ہماری نظیر بے نظیری اور بے حدی کو باطل کس طرح ٹھہرا سکتے ہیں جو ایک واقعہ مصر ہے اور کیا ان دونوں صفات کی ایک ہی ماہیئت نہیں کیونکہ بے نظیر مطلق بے حدی سے نہیں ہوسکتا زمان اور مکان ان ہر دو کا ایک ہی رہتا ہے۔ جنابؔ غور فرما کر جواب دیں۔ ۱۴۔ جب ثبوت دکھلاویں گے کہ قرآن میں معجزہ ہیں اور قرآن خود ہی ایک معجزہ ہے تو ہم مان لیں گے لیکن کسی شخص نے ایک بادشاہ کے سامنے ایک لطیفہ کہا تھا کہ سات رومال لپیٹے ہوئے کھول کر رکھ دئیے۔ اور کہا کہ جناب اس میں نور ظہور کی پگڑی ہے مگر وہ حرام کے کو نظر نہیں آتی۔ الّا حلال کے کو نظر آتی ہے۔ ایسا ہی اگرجناب کا فرمانا ہے کہ اگر ہم کو وہ معجزات نہ نظر آویں تو ہماری نظر کا قصور ہے تو ہم کو ایک گالی کھا لینا منظور ہے مگر جھوٹا اقرار کر لینا منظور نہیں۔ شق القمر کے معجزہ کی بابت میں جناب کو معلوم نہیں کہ شق القمر ہونا مستلزم ساتھ قرب قیامت کے ہے اور آگے اس کے صیغہ ان یّروا مضارع کا ہے اور اس معجزہ سے پہلے سے تحدی یاتعارض کسی کے نہیں ہوئی۔ پس ایسی نظیریں جناب دے کر کس کو اطمینان بخشیں گے۔ سوتو معلوم۔ البتہ پیشین گوئیاں قرآن میں بہت سی ہیں لیکن پیشن گوئیاں دو قسم کی ہیں ایک وہ پیشن گوئی جو علم الٰہی سے ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو عقل عامہ سے ہوتی ہیں۔ جو علم الٰہی کا انحصار کرے۔ اس کی نظیر اگر جناب پیش کریں گے ہم اس پر غور کریں اور روم کے فارس سے مغلوب ہونے کی پیشن گوئی دور اندیشی عقل عامہ کی ہے (آگے بولنے نہ دیا کہ وقت پورا ہوگیا) دستخط دستخط ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام مضمون آخری حضرت مرزا صاحب (۵جون۔ ۱۸۹۳ء) آج یہ میرا آخری پرچہ ہے جو میں ڈپٹی صاحب کے جواب میں لکھاتا ہوں مگر مجھے بہت افسوس ہے کہ جن شرائط کے ساتھ یہ بحث شروع کی گئی تھی ان شرائط کا ڈپٹی صاحب نے ذر ا پاس نہیں فرمایا۔ شرط یہ تھی کہ جیسے میں اپنا ہرایک دعویٰ اور ہر ایک دلیل قرآن شریف کی معقولی دلائل سے پیش کرتا گیا ہوں