کے مجاز میں ہوتا ہے۔ جیساؔ رکابی پلاؤ کا کھانا ہر ایک سمجھتا ہے کہ بھری ہوئی رکابی میں سے کچھ نہ چھوڑنا یا جیسے کہتے ہیں کہ پتنالے چل رہے ہیں یا یہ کنوا ں میٹھا یا کھارا ہے۔یہ بھی ایسے محاورات ہیں جو عامہ ہیں۔ اور سباکی ملکہ جو زمین کے کنارہ سے آئی اس کے معنی صاف ظاہر ہیں کہ دوسرے ملک کے کنارے سے آئی جو فلسطین کے دوسری طرف تھا۔ اس میں جغرافیہ اور علم ہندسہ کا کیا علاقہ ہے یہ نظیریں جناب کے دلدل کی ندی غروب کے لئے پیدا نہیں کر سکیں گے۔ زمین کا ساکن ہونا بھی بد و نظر ہے اور عوام اس سے سوانہیں بولتے اور کلام الٰہی عوام کے لئے ہے۔
۹۔ جناب نے آئیس لینڈ اور گرین لینڈ کے دنوں کی کیا اچھی تعبیر فرمائی ہے اور وہ نظیر جو حمل کی اس میں دی ہے اس سے بھی بڑھ کر ہے مجھے حیرانی یہ ہے کہ کلام نص کو آپ چھوڑ کر کہاں جا پڑتے ہیں۔ قرآن کے کلام نص میں یہ لکھا ہے کہ دن کی سفیدی کی دھاری سے پہلے شروع کر کے شام کی سیاہی کی دھاری کے پیچھے روزہ افطار کرنا چاہئے کہ جن دونوں دھاریوں کا ان ملکوں میں نشان تک کچھ نہیں اور حمل کی بابت جو آپ نے نظیر دی ہے وہ زمانہ متعینہ ہمارا ہے نہ کسی کلام الٰہی کا۔
۱۰۔ جناب فرماتے ہیں کہ گوڈنس کوئی صفت نہیں تب جب ایک شخص جو کسی مواخذہ میں گرفتار نہیں وہ کسی خوش سلوکی کے لائق بھی نہیں ہے۔ رحم کی اصطلاح صاف یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی مواخذہ میں گرفتار ہے جس کو رحم سے چھوڑایا جاتا ہے۔ آپ کا اختیار ہے جتنا چاہیں ضد فرماویں مگر یہ امور بدیہی ہیں۔
۱۱۔ یہ ایک عجیب روک ہے کہ جو ایک امر بدیہی نالائق ہو اس کو نالائق نہ کہا جائے کیا اگر ہم فرض کر لیویں کہ خدا نے کوئی ظلم کیا یا جھوٹ بولا تواسی لحاظ سے یہ فرض خدا کی بابت میں ہے کہ ہم نالائقی اس کی کا ذکر نہ کریں گے۔ ہم تو ان افعالوں کو نالائق کہیں گے اور مفروضہ خدا کو جھوٹا خدا کہیں گے یہ تو ہم ایک امر واقعی دیکھتے ہیں کہ گوشت حیوانوں کا خدا تعالیٰ نے انسانوں کے واسطے کلام الٰہی میں مباح کر دیا ہے اور بعض بعض جانوروں کو بھی جیسا کہ شیر یا باز ہے فطرت نے مباح کردیا ہے۔ لیکن ایک واقعہ مرئی سے اس کا عدل مرئی مٹ نہیں سکتا۔ کوئی وجہ اس کے صادق ٹھہرانے کی ہوگی جو ہم کو نامعلوم ہو تو اس نامعلومی سے اس کی نفی نہیں ہوسکتی۔
۱۲۔ مجسم ہونے سے جسم کو بھی الوہیت ٹھہرانا جناب کی اصطلاح ہوگی ہمارے تو یہ معنی ہیں کہ مجسم ہونے سے مظہریت پرہی ایما ہے۔