۶۔ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی مجبوری میں خدا کا انکار کر لیوے لیکن قلب اس کا حق کے اوپر مطمئن رہے بوجہ اس اکراہ کے اور اطمینان کے غضب الٰہی سے وہ محفوظ رہے گا۔ اس پر ہمارا اعتراض یہ تھا کہ یہ ناحق کی خوف پرستی ہے کہ جو قادر قدوس سکھلاتا ہے اور ایسا ہونا نہ چاہیئے۔ اس تعلیم کو سورہ نحل کی اس آیت میں دیکھ لیں گے کہ جس میں لکھا ہے کہ ۱ الخ۔
۷۔ پولوس کا یہ کہنا کہ میں یہودیوں میں یہودیوں سا ہوں اور غیر قوموں میں غیر قوم سا اس کے یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ وہ بے ایمان دورنگا تھا بلکہ اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ جہاں تک میں کسی سے اتفاق کرسکتا ہوں نفاق نہ کروں گا۔ چنانچہ اس موقع کو غور فرما کر دیکھ لیں۔ یہ پہلا قرنتی ۲۰۔۲۱۔۲۲ اور پطرس کا انکار صاف گناہ کا ہے اور مسیح پر اس نے *** نہیں کی تھی بلکہ اپنے اوپر معلوم نہیں کہ جناب کو کس گھبراہٹ نے پکڑا ہے کہ صحیح اقتباس کلام کا بھی نہیں فرماتے۔ آپ کیا حوالہ بے ایمان انگریزوں کا دیتے ہیں کیا وہ انجیل ہیں کلام بائبل اور قرآن کے اوپر ہے نہ بدعمل لوگوں کے اوپر۔
۸۔ میں جہاز پر سوار ہو آیا ہوں میں نے سورج کو کسی دلدل کی ندی میں غروب ہوتے نہیں دیکھا اور نہ کسی اور نے دیکھا۔ اور وہ جو اس آیت میں بیان ہے کہ اس نے پایا کہ سورج دلدل کی ندی میں غروب ہوجاتاہے تو اس کے ساتھ تصدیق خدائے قرآنی کی بھی ہے جو یہ کہتا ہے ۲ الخ یعنی تجھ سے سوال کرتے ہیں بابت ذولقرنین کی اور ان سے وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ابھی بیان کریں گے۔ پس اس میں تصدیق اسی خدا کی ہے نہ صرف پانا ذوالقرنین کا۔ اس سے ظاہر ہو جیو کہ جناب اس اعتراض کو اٹھا نہیں سکتے ۔ یہ محاورہ کی بات نہیں بلکہ محاورہ کے برخلاف ہے کہ آفتاب دلدل کی ندی میں غروب کرگیا کیونکہ بدو نظر اور محاورہ کسی زبان یا مکان کا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سورج کسی دلدل کی ندی میں غروب کرتا ہے۔ ہاں البتہ یہ تو عام محاورہ اور مجاز ہے جو لوگ کہتے ہیں سورج نکلا اور سورج غروب ہوا۔ اور نہ وہ محاورہ جو آپ فرماتے ہیں اور جو امور بدونظر میں کچھ صورت ظہور کی دکھلاتے ہیں ان کا کلام اس صورت