قائم ہوتی ہے کہ وہ سات قومیں ایسی زیر غضب الٰہی کے تھیں کہ جیسے نوح کے زمانہ میں اور لُوط کے زمانہ میں قہر آیا اور سب کو برباد کر گیا ایسا ہی ان کے واسطے بھی تیغ بنی اسرائیل سے بربادی کا حکم ہوا۔ معصوم بچوں کا جو آپ اعتراض پکڑتے ہیں کہ موسیٰ کی جنگوں میں ہوا ایسا ہی تو ہر وبا میں ہوتا ہے آپ کوماننا پڑے گا کہ یا تو موسیٰ کا بیان حکم الٰہی مانیں او ریا اِس سے بر کنار ہو کر فرماویں کہ توریت کلام الٰہی نہیں آپ ادھر میں نہیں لٹک سکتے۔ آپ کے مذہب پر یہ اعتراض اِس لئے ہے کہ شرط امان کی انحصار ایمان پر کرتی ہے۔ ان سات قوموں سے صلح نہیں کی گئی یہ آپ کا بیان غلط ہے اور عورتیں سب اُن کی نہیں رکھی گئیں مگر شاذ ونادر چند کے بچادینے کے لئے بنی اسرائیل کو اجازت دی گئی اور ایسی عورتوں کے واسطے اجازت دی گئی کہ جن کا پیچھے رونے والا کوئی نہ تھا۔ اور اگر اُن کے رکھنے کے واسطے اجازت نہ دی جاتی تو اُن کے مار ڈالنے سے یہ بد تر نہ ہوتا۔ ۴۔ آپ تسلیم فرماتے ہیں کہ جس کو اجازت صلح کی دی گئی تو اگر ایمان کے واسطے ایسا کیاجائے تو کسی قدر جبر جائز مانا جائے گا۔ مگر فلسطیوں کی ان سات قوموں کے واسطے صلح کی اجازت کبھی نہیں دی گئی اورجزیہ دینا ان سے قبول کبھی نہیں ہوا۔ اور وہ مثل وباکے تہ تیغ ہی کئے گئے ۔ پھر جناب قرآن کی تعلیم کو اُن کی مثال اور انکو ممثلہ نہیں فرما سکتے۔ ۵۔ؔ وہ جو آپ فرماتے ہیں کہ گویا میں نے کہا کہ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ بہ بہانہ مکاری سفید پوشوں کے کپڑے اُتار لیں۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا جناب نے غلط فہمی کی ہے۔ یہ مَیں نے ضرور کہا۱؂ میں اکراہ وہ بھی تو متصوّر ہو سکتا ہے جو بعض اہل اسلام کسی سفید پوش کو دیکھ کر اور اُس سے سلام علیک سُن کر کہہ دیتے تھے کہ تو مسلمان نہیں تو مکاری سے سلام علیک کرتا ہے اور اُسے مار ڈالتے تھے اور کپڑے اتار لیتے تھے۔ ایسوں کے بارہ میں یہ آیت ہو سکتی ہے کہ ایسا اکراہ دین کے معاملہ میں مت کرو نہ وہ اکراہ جوایمان لانے کیلئے ہو جس کے واسطے ہم نے بہت سی آیات ناطق قرآن ہی سے پیش کی ہیں ۔