ع۔ دُکھ تین قسم کے ہوتے ہیں۔
غ۔ آپ پر تو یہ ثابت کرنا ہے کہ جو کروڑہا حیوانات بغیر الزام کسی گناہ کے ذبح کئے جاتے ہیں وہ اگر مالکیت کی وجہ سے نہیں تو کیوں ذبح ہوتے ہیں اورمَرنے کے بعد کس بہشت میں رکھا جائے گا۔(باقی آئندہ)
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ
از جانب اہل اسلام ازجانب عیسائی صاحبان
اَزؔ جانب ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب
جناب جو یہ فرماتے ہیں کہ وہ حکم قتل کا اُنہیں لوگوں کے واسطے تھا جنہوں نے ظلم کیا تھا اہلِ اِسلام پر۔ میراجواب یہ ہے کہ سُورہ توبہ کے رکوع ۴ میں یہ سبب قرار نہیں دیاگیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جو ایمان نہ لاوے اللہ پر اور دن قیامت پر اورجو خدا رسول نے حرام کیا ہے اُس کو حرام نہ مانے تو وہ قتل کیا جائے اوراس میں استثناء صرف اہل کتاب کے لئے ہے کہ اگر وہ ایمان لانے کو نہ چاہیں اورنہ تہ تیغ ہوں تو جزیہ گذار اورخوار ہو کر جیتے رہیں۔ ایسی ہی اور بھی آیات جن کا میں نے حوالہ دیا ان میں یہی منشاء پایا جاتا ہے اورایمان پر امان کا منحصر کرنا گو رعایت ہے لیکن ایمان بالجبر کو اور بھی قائم کرتاہے کہ وہ شفاعتیں اور بخششیں جو مُہلت زمانہ کے واسطے دی گئیں نظیر آپ کے ایمان بالجبر کی نہیں کیونکہ وہ فیصلہ عقبیٰ تک کرتے ہیں۔
۲۔ جہاد بانشان سات قوموں سے تھا چنانچہ ان کے نام بھی درج ہیں یعنی ہیتی۔ پبوسی وغیرہ ان سے ماسوا جو ملک موعود یا ابراہیم کے درمیان اور بھی بہت سی قومیں تھیں جن کو قتل کا حکم نہیں ہوا مگریہ کہ اگر وہ اطاعت قبول کریں تو کافی ہے اور اِس سے ہماری وہ دلیل اور بھی