باپ دونوں نہیں رکھتے تھے ۔ اب قریب برسات آتی ہے ضرور باہر جاکر دیکھیں کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پَیداہوجاتے ہیں پس اِس سے مسیح کی خدا ئی کا ثبوت نکالنا صرف غلطی ہے ۔
ع۔ صرف توبہ سے بے ادائے ہرجہ کیونکر گناہ بخشے جا سکتے ہیں ۔
غ۔ کسی کے گناہ سے خدا ئے تعالیٰ کا کوئی ہرجہ نہیں ہوتا اور گناہ پہلے قانون نازل ہونے کے کچھ وجود نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱ ۲۱۵ یعنی ہم گناہوں پر عذاب نہیں کیا کرتے جب تک رسول نہیں بھیجتے۔ اور جب رسول آیا اورخیر و شر کا راہ بتلایا تو اِس قانون کے وعدوں اوروعیدوں کے موافق عملدارآمد ہو گا کفارہ کی تلاش میں لگنا ہنسی کی بات ہے کیاکفارہ وعدوں کو توڑ سکتا ہے بلکہ وعدہ وعدہ سے بدلتاہے اور نہ کسی اور تدبیر سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۲ ۷ ۱۲۔ اور یہ کہنا کہ اعمال حسنہ ادائے قرضہ کی صُورت میں ہیں غلط فہمی ہے قرضہ تو اُس صُورت میں ہوتا کہ جب حقوق کا مطالبہ ہوتا۔ اَب جبکہ گناہ صرف ترک قانون سے پَیداہوا نہ ترک حقوق سے اور عبادت صرف کتابی فرمانوں پر عمل کرنے کا نام ہے تو نجات عدم نجات کا صرف قانونی وعدوو عید پر مدار رہا۔
ع۔ قرآن کی قسمیں صرف ہنسی کی سی ہیں۔
غ۔ اِس کی حقیقت آپ کو معلوم نہیںیہ ایک خاص اصطلاح ہے جو قسموں کی صورت میں اللہ جلّ شانہ‘ ایک امر بدیہہ کو نظر ی ثبوت کے لئے پیش کرتا ہے یا ایک امر مسلّم کو غیر مسلّم کے تسلیم کرنے کے لئے بیان فرماتا ہے اورجس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے وہ درحقیت قائم مقام شاہد ہوتی ہے جیسا کہ مَیں آیت ۳ میں مفصل بیان کر چکا ہوں۔ اگر تفصیل وار دیکھنا ہو تو آئینہ کمالات اسلام کو دیکھئے۔