اس پر قیاس نہیں کرتے۔ نہیں سمجھتے کہ وہ خدا جس نے ہمارے نظام جسمانی کو اس طرح بنایا کہ آسمان سے ظاہری روشنی ہمارے لئے اترتی ہے اور حقیقی مؤثر آسمانی وسائط کے ذریعہ سے ہمارے جسمانی قویٰ پر اپنا فیض نازل کرتا ہے۔ اور بغیر واسطہ علل کے کوئی فیض نازل کرنا اس کی عادت ہی نہیں تو پھر کیونکر وہ خدا ہمارے روحانی نظام میں اس سلسلۂ وسائط سے بالکل ہم کو منقطع کر دیوے۔ کیا جسمانی طور سے ہم اس سلسلہ سے منقطع ہیں۔ یا درحقیقت ایک سلسلہ وسائط میں بندھے ہوئے ہیں جو علت العلل سے شروع ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اس بحث پر غور کرنے کے لئے ہماری کتاب توضیحؔ مرام اور آئینہ کمالات اسلام دیکھنی چاہئے خاص کر فرشتوں کی ضرورت میں جس قدر مبسوط بحث آئینہ کمالات اسلام میں ہے اس کی نظیر کسی دوسری کتاب میں نہیں پاؤ گے۔ اور سیّد صاحب کی خدا شناسی کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے یہ ان کے اقوال کافی ہیں۔ کہ وہ مخلوقات کو مقدّر حقیقی کے تصرفوں اور حکومتوں سے بے نیاز کر بیٹھے ہیں۔ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی خدائی اس کی قدرت کاملہ سے وابستہ ہے۔ اور قدرت اِسی کا نام ہے کہ اُس کے تصرفات اُس کی مخلوقات پر ہر آن غیر محدود ہوں۔ بلاشبہ یہ سچ ہے کہ اگر اس مخلوقات کو اس نے پیدا کیا ہے تو اپنی غیر محدود ذات کی طرح غیرمحدود تصرفات کی گنجائش بھی رکھ لی ہوگی۔ تا کسی درجہ پر اس کی خدائی کا تعطل لازم نہ آوے* اور اگر نعوذؔ باللہ آریہ ہندوؤں کا قول صحیح ہے * حاشیہ:۔ اگریہ اعتراض کیا جائے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خداتعالیٰ کی غیرمتناہی حکمت استحالات غیرمتناہیہ پر قادر ہے۔ حقائق اشیاء سے امان اٹھ جاتا ہے۔ مثلاً اگر خداتعالیٰ اس بات پرقادر سمجھاجائے کہ پانی کی صورت نوعیہ کو سلب کرکے ہوا کی صورت نوعیہ اس جگہ رکھ دے یاہوا کی صورت نوعیہ کو سلب کرکے آگ کی صورت نوعیہ اس کی قائم مقام کردے یا آگ کی صورت نوعیہ کو سلب کرکے ان مخفی اسباب سے جو اس کے علم میں ہیں پانی کی صورت نوعیہ میں لے آوے یامٹی کو کسی زمین کی تہ میں تصرفات لطیفہ سے سونا بنادے یا سونے کو مٹی بنا دے تو اس سے امان اٹھ جائے گا اور علوم و فنون ضائع ہو جائیں گے۔ تو اس سوال کاجواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر فاسد ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ