ع۔ نبی اسلام کا چھوٹا یا بڑا معجزہ ثابت نہیں ہوا۔ غ۔ قرآن معجزات سے بھرا ہے اور خود وہ معجزہ ہے توجہ سے دیکھیں اور پیشگوئیاں تو اس میں دریا کی طرح بہ رہی ہیں۔ اسلام کے غلبہ کی ضُعفِ اسلام کے وقت خبر دی۔ سلطنت روم کے غلبہ کی اُن کے مغلوب ہونے کے پہلے خبر دی۔ شق القمر کامعجزہ بھی موجود ہے اگر نظام کے مخالف وسوسہ گزرے تو یوشع بن نون اور یسعیاہ نبی کی نظیر دیکھ لیجئے مگر حضرت مسیح کے معجزات کا ہمیں کچھ پتہ نہیں لگتا۔ بیت حسدا کے حوض نے اُن کی رونق کھو دی۔ پیشگوئیاں نری اٹکل معلوم ہوتی ہیں اور زیادہ افسوس یہ ہے کہ بعض پوری بھی نہ ہوئیں مثلًا یہ پیشگوئی کب اور کس وقت پُوری ہُوئی کہ تم سے ابھی بعض نہیں مریں گے کہ مَیں آسمان پر سے اُتر آؤں گا۔ بادشاہتؔ کہاں ملی جس کے لئے تلواریں خریدی گئی تھیں۔ بارہ حواریوں کو بہشتی تختوں کا وعدہ ہوا تھا یہودا اسکریوطی کو تخت کہاں ملا۔ ع۔ قرآن نے فصاحت و بلاغت کا دعویٰ نہیں کیا۔ غ۔ اگلے پرچہ میں دکھلادوں گا کہ کیاہے۔ ع۔ کیا ستون میں خدا نہیں بول سکتا۔ غ۔ کیوں نہیں بلکہ ستون میں بول کر بھی وُہ ستون سے بے علاقہ رہے گا اور ستون ابن اللہ نہیں کہلائے گا بلکہ جیسے پہلے تھا ویسے رہے گا او ایک ستون میں بولنا ایک ہی وقت میں دُوسرے ستون میں بولنے سے منع نہیں کرے گا بلکہ ایک ہی سیکنڈ میں کروڑہا ستونوں میں بول سکتا ہے مگر آپ کا اصول اس کے مطابق نہیں ۔ ع۔ کس نبی کے بارہ میں لکھا ہے کہ میر ا ہمتا۔ غ۔ جناب جب بعض نبیوں کو خدا کہا گیا تو کیا ہمتا پیچھے رہ گیا بلکہ خُدا کہنے سے تو قادِر مطلق وغیرہ سب صفات آگئے ۔ ع۔ مسیح کے مظہر اللہ ہونے میں بیبل میں بہت سی پیشگوئیاں ہیں۔