ع۔ؔ انسان فعل مختار ہے۔ غ۔ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ جس حد تک اس کو قویٰ بخشے گئے ہیں اُس حد تک وہ اس قویٰ کے استعمال کا اختیار رکھتا ہے تو یہ قرآنی تعلیم کے مخالف نہیں۔ اللہ جلّ شانہ‘ فرماتا ہے۔ ۱؂ ۱۶یعنی وُہ خدا جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قویٰ اورجوارح بخشے اورپھر ان کو استعمال میں لانے کی توفیق دی۔ ایسا ہی فرماتا ہے: ۲؂ ۹۱۵ یعنی ہر ایک اپنے قویٰ اور اشکال کے موافق عمل کرنے کی توفیق دیا جاتاہے اور اگر کچھ اورمعنے ہیں تو آپ کو خوشگوار رہیں ۔ ع۔ کیا خدائے تعالیٰ مالکیت کے برقعہ میں ناجائز کاموں کی اجازت دے سکتا ہے۔ غ۔ نالائق مت کہئے جو کچھ اس نے کیااورکر رہا ہے وہ سب لائق ہے۔ صحیفہ قدرت کو دیکھئے کہ وہ کروڑہا پرند اور چرند اوردوسرے جانوروں کی نسبت کیا کر رہا ہے اوراس کی عادت حیوانات کی نسبت کیا ثابت ہوتی ہے اگر غور سے آپ دیکھیں گے تو آپ اقرار کریں گے کہ وضع اِس دنیا کی اسی طرح پائی جاتی ہے کہ خُدائے تعالیٰ نے ہر ایک حیوان کو انسان پر قربان کر رکھا ہے اور اس کے منافع کے لئے بنایا ہے ۔ ع۔ کلام مجسّم ہوا۔ غ۔ اِس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح ؑ کا جسم بھی خدا تھا لیجئے حضرت یک نہ شد دو شد۔ ع۔ اقنوم کے معنی شخص معین ہیں سو یہ تین جُداجُدا شخص اور ماہیئت ایک ہے اب قائم فی نفسہٖ اور ابن اور رُوح القدس اس میں لازم و ملزوم ہیں۔ غ۔ جبکہ یہ تینوں شخص اور تینوں کامل اورتینوں میں ارادہ کرنے کی صفت موجود ہے۔ اب ارادہ کرنے والا ابن اراد ہ کرنے والا روح القدس ارادہ کرنے والا ۔ تو پھر ہمیں سمجھاؤ کہ باوجود اس حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیئت کیونکر اور نظیر بے حدی اور بے نظیری کی اس مقام سے کچھ تعلق نہیں رکھتی کیونکہ وہاں حقیقی تفریق قرار نہیں دی گئی۔