بلکہ ہر ایک چیز وسائط کے ذریعہ سے ہی ملتی ہے ۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے ظاہری قویٰ کی خلقت تام نہیں ہے یعنی ایسانہیں ہے کہ مثلاََ مستقل طور پر روشن ہوں اور آپ کے مجوزہ ملکہ وحی کی طرح ایسا اُن میں ملکہ موجود ہو جو آفتاب کے واسطہ سے ہم کو مستغنی کردے۔ پھر اس نظام کے برخلاف بے اصل باتیں آپ کی کیونکر صحیح ٹھہرسکیں ۔ ماسوا اس کے ذاتی تجارب کی شہادت جو سب شہادتوں سے بڑھ کر ہے آپ کی ا س رائے کی سخت تکذیب کرتی ہے کیونکہ یہ عاجز قریباََ گیارہ برس سے شرف مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے اور اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ کہ وحی درحقیقت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے ۔ وحی کی مثال اگر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کے ساتھ دی جائے۔ تو شاید کسی قدر تار برقی سےؔ مشابہ ہے جو اپنے ہر یک تغیر کی آپ خبر دیتی ہے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگ وحی ولایت میرے پرنازل ہوتی ہے۔ ایک خارجی اور شدید الاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اُس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اس تصرف میں کھلا اور روشن کلام سُنتا ہوں ۔ بعض وقت ملائکہ کو دیکھتاہوں*اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور ایسا تصرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے۔ جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے ۔ اب اس سے انکار کرنا ایک کھلیکھلی صداقت کا خون کرنا ہے ۔
مناسب ہے کہ سیّد صاحب موت سے پہلے اس صداقت کو آج مان لیں ۔ اور آسمانی وحی کی توہین نہ کریں ۔ تعجب ہے کہ وہ نظامِ ظاہری کو تو دیکھتے ہیں اور پھر نظام باطنی کا
*نوٹ :۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ ملائک بعض وقت نظر آتے ہیں بلکہ بسا اوقات ملائک کلام میں اپنا واسطہ ہونا ظاہر کر دیتے ہیں ۔ منہ