گڈنسکا داؤد نبی نے ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ لکھتا ہے کہ ارے آؤ۔ چکھو۔ دیکھو کہ یہی بھلا ہے۔ اب عدالت کا کام یہ ہے کہ جس وقت گناہ سرزد ہووے اس کا تدارک فرماوے اور رحم اس ماقبل نہیں مگر مابعد اس تدارک و مواخذہ سے رہائی کرنے کو آوے۔ اور جب تک کوئی گناہ صادر نہیں ہوا۔ جو بھلائی اس سے کی جاتی ہے وہ مطابق گڈنس کے کی جاتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ جو شئے عدم سے بوجود آئی ہے اس کا اپنے خالق پر یہ حق ہے کہ اس سے کہے فلانا دکھ مجھ کو کیوں ہوا کہ تو عادل اگر ہے اس بات کا عدل کر۔ بکری جو ذبح کی جاتی ہے اس کے واسطے یہ عذر کافی نہیں کہ تیرا خالق و مالک ہوں۔ تھوڑی سی ایذاء میں دوسروں کی معیشت کے واسطے تجھے دیتا ہوں تو ناحق کی شاکی نہ ہو۔ لے۔ عدل یہ نہیں چاہتا ہے کہ کسی کو ایذا ہووے جس کا وہ مستوجب نہیں یا ؔ کہ وہ ایذا اس کے واسطے کچھ زیادہ خوبی پیدا نہ کرے اور اسی لئے ہم نے اقسام دکھ تین بیان کر دیئے ہیں کہ جن کو آپ مٹا نہیں سکتے اور آپ پھر دکھ کو ایک ہی قسم کا تصور فرما کر آپ خالقیت اور مالکیت کے برقعہ میں اس کو ہرلائق و نالائق امر کی اجازت کس طرح دے سکتے ہیں۔ ہم نے بار بار جناب کو کہا کہ عدالت و صداقت غیر مفید الظہور نہیں ہوسکتی۔ پھر کس لئے تقاضائے عدل کا لحاظ آپ چھوڑتے ہیں کیا آپ کے چھوڑنے سے عدل بھی اس کو چھوڑ دے گا۔ یقیناً جب تک اس کا تقاضا پورا نہ ہو رحم نہ ہوسکے گا۔ پانزدہم۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں بقول آپ کے عدل کو عدول نہیں فرمایا اور نہ رحم کو عدل پر غالب کیا۔ بلکہ وہاں رحم کا آسرا لوگوں کو دلایا ہے اور یہ بجا ہے۔ باقی جو جناب خوش فہمیاں فرماویں آپ کا اختیار ہے۔ شانزدہم۔ یہ تو حق ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے چاہتا ہے کہ وہ ایسا یا ویسا کرے وہ اس کے فائدہ کے لئے بھی ہے۔ مگر اس سے حقوق الٰہی کا رد کرنا غلط ہے کیا کچھ حقوق الٰہی بھی عباد اللہ کے اوپر ہیں۔ اگر نہیں تو گناہوں میں کیا ہرجہ خداتعالیٰ کا ہے تو پھر کس لئے وہ تیغ عدل سے اس کو ڈرایا چاہتا ہے۔ جب ہرجہ ہی کچھ نہیں تو پھر سزا کس لئے ہو۔