سے ہوسکتا ہے۔ واضح ہو کہ جیسا ہم قدرت الٰہی کو حدودنا مناسب میں قید نہیں کرتے ویسے ہی فعل مختاری انسان کی حدود نا مناسب میں قید نہیں ہوسکتی۔
یازدہم۔ پورے اختیار پر دعا بے فائدہ ہے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ہم علم و قدرت بھی اس کے ساتھ بے حد رکھتے ہوں۔ لیکن ہم نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر یہ کہ اس کا علم اور اس کی قدرت اور اس کا اختیار کل محدود ہیں۔ پس آپ کے فرائض و مسلمات محض خیالی ہیں۔
دوازدہم۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دلوں پر آنکھوں پر مہر کرنا کلام مجازی نہیں تو ہم پر اس کا اعتراض کیا ہے۔
سیزؔ دہم۔ ہم بالکل تسلیم کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی ذات مستغنی الذّات مطلق ہے۔ لیکن وہ وہیں تک آزاد ہے کہ جہاں تک اس کی ساری صفات بالاتفاق اجازت دیں۔ چنانچہ اگر وہ کسی پر ظلم کرنے کو چاہے توچاہیئے کہ عدل اس کا مانع ہوگا۔ یا کسی کے ایذاء ناحق میں وہ خوش ہووے تو صفت گڈنس کی اس کے مانع ہوگی۔ علیٰ ہذالقیاس بہت ہی صفات متبرکہ ا س کی ہیں جو ان کلیو سب ہو کر چل سکتی ہیں اوراکس کلیو سب ہوکر نہیں چل سکتیں جیسا کہ اگر ایک صفت کچھ کام کرتی ہے تو ساری بالاتفاق اس کی ممد ہیں۔ گو ظہور خاص اس ایک کا ہے جو کام کر رہی ہے۔ اور اگر کوئی صفت کام کرتی ہے تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اٹنک ہے اور کوئی صفت اس کے ساتھ نہیں اور مخالف ہونا تو نعوذ باللہ دو صفات میں کہیں بھی جائز نہیں کہ ایک دوسری کی مخالف ہو۔
چہاردہم۔ اول تو جناب ہمیشہ ان دو صفات کی تمیز کے بارہ میں جو ایک رحم ہے دوسری گڈنس لاعلمی دکھلاتے ہیں۔ اور تمیز اس میں یہ ہے کہ رحم کسی مواخذہ اور تکلیف پر آتا ہے اور گڈنس صرف اپنے متعلقین کو خوشنود رکھنے کے واسطے ہوتا ہے جیسا کہ اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں پکڑا ہوا ہووے اس کی رہائی کے واسطے رحم کی صفت ہے اور اگر کوئی اپنے جانوروں کو بھی بہرحال خوش رکھنے چاہتا ہے اور ان غذاؤں سے جن کے وہ لائق ہیں عمدہ تر غذائیں وہ ان کو دیتا ہے یہ گڈنس کے باعث ہے۔ چنانچہ اس لفظ