تنبیہ پدری واسطے بھلائی پسر کے تو ہوتی ہے۔ لیکن سزا کا لفظ کیا بے معنے مطلق ہے تنبیہ کا مخرج رحم سے ہے اور سزا کا مخرج عدل سے۔ چنانچہ ہم بھی اپنے بچوں کو تنبیہہ کرتے مارتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مر ہی جائیں۔ اور جب ناخلف کرکے نکال دیں تو اس کا مطلب سزا ہے۔ یہ تیرے اعمال کی پاداش ہے۔ تو پس ان دو امر میں تمیز موجود ہے تو ان کو نظر انداز کس لئے کیا جائے۔ ہفدہم۔ اسلام کی لڑائیاں بہت قسم کی تھیں ہم تسلیم کرتے ہیں چنانچہ دافعیہ۔ انتقامیہ انتظامیہ وغیرہ۔ لیکن جو آیت داب مناظرہ میں ہے اس کی وجہ یہ دی گئی ہے کہ مارو ان کو جو اللہ و قیامت کو نہ مانیں اور حرام و حلال کا لحاظ نہ کریں۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان بیانؔ حضرت مرزا صاحب ۲۔ جون ۱۸۹۳ء ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ مظہریت سے پہلے اقنوم ثانی کا علاقہ تھا مگر ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے جب تک وہ انجیل کی صریح عبارت پیش نہ کریں کہ مظہریت بعد میں آئی۔ اور اقنوم ثانی کا پہلے سے علاقہ تھا۔ اور پھر ان کا یہ فرمانا کہ عقل سے امکان تثلیث ہم نے ثابت کر دیا ہے اور کلام سے وقوعہ ثابت ہوگیا ہے۔ یہ دونوں ابھی تک دعویٰ ہی دعویٰ ہیں۔ ناظرین ان کے جوابات کی اوراق گردانی کرکے دیکھ لیں کہ کہاں عقل کے رو سے امکان تثلیث ثابت کر دیا ہے؟ عقل کا فیصلہ تو ہمیشہ کلی ہوتا ہے۔ اگر عقل کی رو سے حضرت مسیح کے لئے داخل تثلیث ہونا روا رکھا جائے تو پھر عقل اوروں کے لئے بھی امکان اس کا واجب کرے گی۔ پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ کس نبی پر بشکل مجسم کبوتر کے روح القدس نازل ہوا۔