فعل مختار مطلق ہے اور اس کا انکار آپ عبث کرتے ہیں۔ ہفتم۔یسعیا کا بیان کہ وہ سلامتی اور بلا پیدا کرتا ہے فعل مختاری کے برخلاف کچھ نہیں۔ نہ معلوم جناب نے کیوں حوالہ اس آیت کا دیا۔ فرعون کا دل سخت کیونکر ہوا- ہم نے اس کی شرح کل کردی ہے یعنی اس کو جب شرارت سے نہ روکا اور فضل کا ہاتھ پرے کر لیا تواس کا نتیجہ یہؔ ہے کہ وہ خواہ نخواہ سخت دل ہوگیا۔ کیا جناب اس امر کو نہیں سمجھتے کہ کرنے اور ہونے دینے میں بڑا فرق ہے۔ انگریزی میں صاف فرق ہے کہ کمشن اس کو کہتے ہیں کہ خود کرے اور پرمشن اس کو کہتے ہیں کہ ہونے دے۔ تو ہونے دینے کا کیا الزام مساوی اس کے ہے کہ اس نے کیا۔ اور اگر ایسا ہی الزام ہو تو صحیح نہیں ہوسکتا۔ ہشتم۔ آپ کی تیسری مثل میں کہ شریروں کو اپنے لئے بنایا اس کا مطلب صاف ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ شریر ہونے دیا۔ یہ بھی وہی پرمشن ہے نہ کہ کمشن۔ کلام مجازی کو اور عامہ کو چھوڑ کے آپ فلاسفی میں کس لئے گھستے ہیں۔کیا عوام سے جناب کلام اسی طرح پر کرتے ہیں کہ ہر ایک لفظ اس کا فلوز افیکل ہووے یعنی مطابق فلاسفی کے۔ تاہم وہ آیت جو زیر داب تنازعہ کے ہے۔ اس میں اصول قائم کیا گیا ہے کہ گویا خدا فرماتا ہے کہ ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے اور اس اصول کا بیان اس فروع پر ہے۔ جو کہتے تھے کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہاں یہ کلیہ کبریٰ ہے اور قیاس مرد مان صغریٰ ہے۔ نتیجہ جو اس کا ہے آپ انصاف کر لیجئے۔ نہم۔ مسیح بہ نسبت اپنی انسانیت کے سارے فرائض الٰہی ادا کرنے والا ہے پس وہ امتحان بھی دے گااور شیطان سے آزمایا بھی جائے گا۔ لہٰذا کیا ضرور ہے کہ اس امر کو اختیارونااختیاری کی بحث میں داخل کیا جائے۔ دہم۔ نہ ہم نے کہیں خدا کے اختیار کو کسی حد میں قید کیامگر وہ قیود جو ہر صفت پر اس کے خاصہ سے لازمی ہے۔ مثلاً ہم اس کو قادر مطلق کہتے ہیں۔ اس کے معنے یہ نہیں ہو سکتے کہ وہ نقیضین کو آن واحد میں جمع بھی کرسکتا ہے کیونکہ اجماع نقیضین دوسرا نام بطلان کا ہے اور بطلان کوئی صفت نہیں چاہتا ہے کہ جو اس کو بناوے۔ مگر صرف کھانا صداقت کا تو قادر مطلق کے یہ معنے ہیں کہ جو ممکن ہے اس کو بناوے اور جو ناممکن ہے اس کے بنانے کی احتیاج کچھ نہیں وہ تو صرف جھوٹ بولنے