بیان ؔ ڈپٹی صاحب عبداللہ آتھم
۲۔ جون ۱۸۹۳ء
وقت ۷۴۰
جواب اول عرض ہے کہ میں نے نہیں کہا کہ مظہر اللہ ہے بلکہ یہ کہا کہ اقنوم ثانی اور انسانیّت کا باہم علاقہ رہا ہے۔ مظہر اللہ تو تب ہی ظاہر ہوئے کہ جب مسیح ہوئے۔ یعنی ۳۰ برس کی عمر میں۔
دوم۔ کافی ثبوت تثلیث کا دیا گیا ہے عقل سے امکان اور کلام سے وقوعہ اس کا۔ اگر آپ نہیں مانتے تو طبع ہونے کے بعد ہر ایک بجائے خود انصاف کرلے گا۔
سوم۔ کسی نبی کے اوپر بشکل مجسم کبوتر کی مانند روح نازل ہوا۔ پھر آپ کوئی نشان نہیں دیتے کہ کون سا نبی اس کے مساوی ہے۔ اور ناحق کی حجت پیش کرتے ہیں۔
چہارم۔ میں نے جو آیت سند کی پیش کی ہے اس میں مسلمانوں کا تذکرہ یہ تھا کہ کیا کوئی بھی امر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جواب اس کا یہ دیا گیا ہے کہ سب امر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ امر کے معنے جو حکم کے جناب نے کئے ہیں۔ امور جس کا جمع ہے وہ بھی امر ہے یعنی کام۔ تو معنے یہ ہوئے کہ ہر کام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بالضرور فعل مختاری انسان میں مداخلت ہے۔
جناب مرزا صاحب آپ جو حوالہ اشیاء مخلوق و مثل کھیتی و پانی وغیرہ کے دیتے ہیں وہ اختیارونااختیاری کی مثال نہیں۔ میں جناب کو یہ الزام نہیں دیتا کہ جناب فریب دیتے ہیں مگر فریب کھاتے ضرور ہیں۔
پنجم۔ توحید کا ثبوت اس سے کچھ نہیں ہوتا کہ سبب اولیٰ ہوکر خداتعالیٰ سبب ثانی کے واسطے کچھ گنجائش باقی نہ رکھے سبب اولیٰ اگر قادر مطلق ہے تو دوسرے کو فعل مختار بھی پیدا کر سکتا ہے اور جب فعل مختار بنا دیا تو اس کی فعل مختاری میں مداخلت کرنا اس کے منصوبہ بنانے کے برخلاف ہے۔
ششم۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فعل مختاری انسان کی لاحد ہے مگر اپنے حدود میں وہ