پھر فرماتا ہے۔ ؂ ۱ ۲۸ پھر فرماتا ہے۔ ۲؂۲۱۰ پھر فرماتا ہے۔ ۳؂۲۱۷ پھر فرماتا ہے۔۴؂س ۱۴ اخیر رکوع پھر فرماتا ہے۔۵؂ ۱۸۲۱ پھر فرماتا ہے۔ ۶؂ ۱۴ پھر فرماتا ہے۔ ۷؂ ۸۱۰ اب ترجمہ کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ کفار نے کیسے ہی دکھ دیئے تھے مگر صبر کرنا چاہیئے تھا تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو اپنے لات و عزیٰ بتوں کی تائیدات پر حمل کرتے تھے جیسا کہ قرآن کریم اس سے بھرا پڑا ہے حالانکہ وہ صرف ایک مہلت کا زمانہ تھا۔ اس لئے خداتعالیٰ نے چاہا کہ یہ ثابت کرے کہ جیسے ان کے بت قرآن کریم کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں ایسا ہی تلوار کے ساتھ کامیاب کرا دینے سے بھی عاجز ہیں۔ سو جس قدر اسلام میں ان پر حملے کئے گئے اول مقصد ان کفار کے بتوں کا عاجز ہونا تھا اور یہ ہرگز نہیں کہ ان لڑائیوں میں کسی قسم کا یہ ارادہ تھا کہ قتل کی دھمکی دے کر ان لوگوں کو مسلمان کر دیا جائے بلکہ وہ طرح طرح کے جرائم اور خونریزیوں کے سبب سے پہلے سے واجب القتل ہو چکے تھے اور اسلامی رعایتوں میں سے جو ان کے ساتھ رب رحیم نے کیں ایک یہ بھی رعایت تھی کہ اگر کسی کو توفیق اسلام نصیب ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔ اس میں جبر کہاں تھا عرب پر تو انہیں کے سابقہ جرائم کی وجہ سے فتویٰ قتل کاہوگیا تھا۔ ہاں باوجود اس کے یہ رعایتیں بھی تھیں کہ ان کے بچے نہ مارے جائیں ان کے بڈھے نہ مارے جائیں ان کی عورتیں نہ ماری جائیں اور ساتھ اس کے یہ بھی رعایت کہ بصورت ایمان لانے کے وہ بھی نہ مارے جائیں۔(باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان