ٹھہرائی تا معلوم ہو کہ حقوق کا مطالبہ اس سے جائز نہیں اور اس سے کوئی اپنے حق کا خواستگار نہیں ہوسکتا اور نہ وہ حاجت مند ہے کہ بحیثیت ایک ایسے حقدار کے جو بغیر وصول حق کے مرا جاتا ہے بندوں سے فرمانبرداری چاہتا ہے بلکہ بندوں کی عبادتیں اور بندوں کی طاعتیں درحقیقت انہیں کے فائدہ کے لئے ہیں جیسا کہ طبیب نسخہ کسی بیمار کے لئے تجویز کرتا ہے تو یہ بات نہیں کہ اس نسخہ کو طبیب آپ پی لیتا ہے یا اس سے کوئی حظ اٹھاتا ہے یا کہ وہ بیمار کی بھلائی کے لئے ہے۔ اور پھر بعد اس کے آپ نے اسلام کے جہاد پر اعتراض کیا ہے مگر افسوس کہ آپ نے اسلامی جہاد کی فلاسفی کو ایک ذرہ بھی نہیں سمجھا اور آیات کی ترتیب کو نظر انداز کر کے بے ہودہ اعتراض کر دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبردست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خداتعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیرو مخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کر نے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعمکو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاؔ ہے۔ ۱؂ ۱۹ پھر فرماتا ہے۔۲؂ الی آخرہ ۵۷