حق ہوجس حق کا وہ مطالبہ کرے۔ لیکن یہ دونوں باتیں باطل ہیں کیونکہ بندہ کو خداتعالیٰ نے عدم محض سے پیدا کیا ہے اور جس طرح چاہا بنایا۔ مثلاًانسان یا گدھا یا بیل یا کوئی کیڑا مکوڑا۔ پھر حق کیسا۔ اور خداتعالیٰ کا حق اگرچہ غیر محدود ہے مگر مطالبہ کے کیا معنی۔ اگر یہ معنی ہیں کہ خداتعالیٰ کو بندوں کی فرمانبرداری کی ضرورتیں پیش آگئی ہیں اور تب ہی اس کی خدائی قائم رہتی ہے کہ ہر ایک بندہ نیک اور پاک دل ہو جائے ورنہ اس کی خدائی ہاتھ سے جاتی ہے۔ یہ تو بالکل بے ہودہ ہے کیونکہ اگر تمام دنیا نیک بن جائے تو اس کی خدائی کچھ بڑھ نہیں سکتی۔ اور اگر بد بن جائے تو کچھ کم نہیں ہوسکتی۔ پس حق کو بحیثیت حق قرار دے کر مطالبہ کرنا چہ معنی دارد۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے جو غنی بے نیاز ہے اور اس سے برتر ہے کہ اپنی ذاتی حاجت سے کسی حق کا مطالبہ کرے۔ خود بندہ کے فائدہ کے لئے اور اپنی مالکیّت اور خالقیّت اور رحمانیّت اور رحیمیّت کے ظاہر کرنے کے لئے یہ سارا سامان کیا ہے۔ اول ربوبیّت یعنی خالقیّت کے تقاضا سے دنیا کو پیداکیاپھر رحمانیّت کے تقاضا سے وہ سب چیزیں انکو عطاکیں جن کے وہ محتاج تھے ۔ پھر رحیمیّت کے تقاضا سے ان کے کسب اور سعی میں برکت ڈالی او ر پھر مالکیّت کے تقاضا سے ان کو مامور کیا۔ اور امر معروف اور نہی منکر سے مکلف ٹھہرایا اور اس پر وعید اور مواعید لگا دیئے۔ اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا کہ جو شخص بعد معصیت کے طریق ایمان اور توبہ و استغفار کا اختیار کرے۔ وہ بخشاجائےؔ گا۔ پھر اپنے وعدوں کے موافق روز حشر میں کاربند ہوگا اس جگہ رحم بلامبادلہ کا اعتراض کیا تعلق رکھتا ہے اور قائمی حقوق کا اور خداتعالیٰ سے متکبرانہ طور پر عدل کا خواستگار ہوناکیا علاقہ رکھتا ہے۔ سچی فلاسفی اس کی یہی ہے جو سورۂ فاتحہ میں بیان فرمائی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب دیکھئے رحمن اور رحیم کے بعد بظاہر یہ سمجھا جاتا تھا کہ العادل کا لفظ لانا ان صفات کے مناسب حال ہے کہ رحم کے بعد عدل کا ذکر ہو لیکن خداتعالیٰ نے عدل سے عدول کرکے اپنی صفت