آپ کا خدا تعالیٰ کیا فرماتاہے۔ خدا وند نے ہر ایک چیز اپنے لئے بنائی ہاں شریروں کو بھی اُس نے بُرے دن کیلئے بنایا ۳۱۶ ۔ اب دیکھئے یہ تو گویا اقبالی ڈگری کیطرح آپ پر الزام وارد ہوگیا کہ شر یر دوزخ کیلئے بنائے گئے کیونکہ وہی تو بُرا دِن ہے۔ پھرآپ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اگرچہ اختیارکی بھی تعلیم ہے مگر پھر مجبوری کی بھی تعلیم اور یہ ایک دُوسری کی نقیض ہیں اِس کے جواب میں مَیں لکھ چکا ہوں کہ آپ خلط مقاصد کرتے ہیں۔ جہاں آپ کو مجبوری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے وہاں مذاہبِ باطلہ کا ردّ مقصود ہے اور ہر ایک فیض کا خُداتعالیٰ کو مبدا قرار دینا مدِّ نظر ہے۔
اور آپ فرماتے ہیں کہ شیطان جو حضرت مسیح کو لے گیا اُس میں کیا مجبوری تھی ۔ جواب یہی ہے کہ نُور سے ظلمت کی پَیروی کرائی گئی۔ نور بالطّبع ظلمت سے جُدا رہنا چاہتا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر اختیار کو ماناجائے تو پھر خُدا تعالیٰ کا علت العلل قرار دینا لغو ہے آپ کی تقریر کا یہ خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بکلی خداتعالیٰ کو معطل کر کے پورا پورا اقتدار اور اختیارچاہتے ہیں جبکہ ہمارے قویٰ اور ہمارے جو ارح کے قویٰ اور ہمارے خیالات کے مبلغ علم پر اُس کی خدائی کا تسلط ہے وہ کیونکر معطّل ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو علّت اور معلولات کا سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اور صانع حقیقی کی شناخت کرنے میں بہت سافتور آئے گااور دُعا کرنا بھی لغو ہوگا۔ کیونکہ جبکہ ہمؔ پورا اختیار رکھتے ہیں تو پھر دعا بے فائدہ ہے۔ آپ کو یادر ہے کہ خدا تعالےٰ کو علّت العلل ماننا مستلزم مجبوری نہیں یہی ایمان ہے یہی توحید ہے کہ اِس کو علت العلل مان لیا جاوے اور اپنی کمزوریوں کے دُور کرنے کے لئے اِس سے دُعائیں کی جائیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ کہ اُن کو آنکھیں دیکھنے کے لئے نہیں دیں۔ مجاز ہے۔ حضرت اگر یہ مجاز ہے تو پھر کہاں سے معلوم ہوا کہ دِلوں پر مُہر لگانا اور آنکھوں پر پَردہ ڈالنا حقیقت ہے۔ کیا اِس جگہ آپ کو مُہریں اورپَردے نظر آگئے ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر آپ نے رحم بلا مبادلہ کو ردّ کر دیا ہے تو بس خوش ہو جئیے ۔ افسوس ابھی تک آپ میری بات کو نہ سمجھے یہ تو ظاہر ہے کہ عدل کا مفہوم جانبین کے حقوق کو قائم کرتا ہے یعنی اِس سے لازم آتا ہے کہ ایک خداتعالیٰ کا بندہ پر حق ہو جس حق کا وہ مطالبہ کرے ا ور ایک بندہ کا خداتعالیٰ پر