اور مسبب الاسباب وہی ہے اور بعض ایسے بھی تھے جو مادہ اور رُوح کو قدیم سمجھ کر خداتعالیٰ کا علّت العلل ہونا بطور ضعیف اور ناقص کے خیال کرتے تھے۔ پس یہ الفاظ قرآن کریم کے کہ میرے ہی امر سے سب کچھ پَیدا ہوتا ہے۔ توحید محض کے قائم کرنے کے لئے تھے۔ ایسی آیات سے انسان کی مجبوری کا نتیجہ نکالنا تفسیر القول بما لا یرضی بہ قائلہ ہے۔ اور خداتعالیٰ کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ آزادی اور عدم مجبوری جس کا ڈپٹی صاحب موصوف دعویٰ کر رہے ہیں دُنیا میں پائی نہیں جاتی بلکہ کئی قسم کی مجبوریاں مشہود و محسوس ہو رہی ہیں۔ مثلًا بعض ایسے ہیں کہ اُن کا حافظہ اچھا نہیں وہ اپنے ضعیف حافظہ سے بڑھ کر کسی بات کے یاد کرنے میں مجبور ہیں بعض کا متفکرہ اچھا نہیں وہ صحیح نتیجہ نکالنے سے مجبور ہیں۔ بعض بہت چھوٹے سر والے جیسے وہ لوگ جنہیں دولہ شاہ کا چُوہا کہتے ہیں ایسے ہیں کہ وہ کسی امر کے سمجھنے کے قابل نہیں۔ ان سے بڑھ کر بعض دیوانے بھی ہیں اور خود اِنسان کے قویٰ ایک حد تک رکھے گئے ہیں جس حد سے آگے وہ کام اُن سے نہیں لے سکتے۔ یہ بھی ایک قسم کی مجبوری ہے۔ پھرؔ ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے افسوس کہ ڈپٹی صاحب کیسے صحیح معنے سے پھر گئے۔ واضح ہو کہ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ خداتعالیٰ شر کو بحیثیت شر پیدا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔ 33 ۱؂ یعنی اے شیطان شر پہنچانے والے میرے بندوں پر تیرا تسلّط نہیں بلکہ اِس فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک چیز کے اسباب خواہ وہ چیز خیر میں داخل ہے یا شر میں خداتعالیٰ نے پَیدا کی ہیں۔ مثلًا اگر شراب کے اجزاء جن سے شراب بنتی ہے موجود نہ ہوں تو پھر شرابی کہاں سے شراب بنا سکیں اور پی سکیں لیکن اگر اعتراض کرنا ہے تو پہلے اس آیت پر اعتراض کیجئے کہ۔ ’’ سلامتی کوبناتا اور بلا کو پَیدا کرتا ہے ۔ ‘‘ یسعیا ۷۴۵۔ پھر آگے ڈپٹی صاحب موصوف فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے۔ توریت میں ایسا کوئی حکم نہیں کہ دوزخ کیلئے خُدا نے کسی کو مجبورکیا ہے۔ اِس کا یہی جواب ہے کہ فرعون کا دِل خدا نے سخت کیا آپ اِس کو مانتے ہیں۔ پھر انجام فرعون کا اِس سخت دلی سے جہنّم ہوا یا بہشت نصیب ہوا ۔ پھر دیکھو امثال