اور یوں تو ہر ایک نبوت کے سلسلہ میں تین جزؤں کا ہونا ضروری ہے اور آپ صاحبوں کی یہ خوش فہمی ہے کہ اُن کا نام تین اقنوم رکھا۔رُوح القدس اسی طرح حضرت مسیح پر نازل ہوا جس طرح قدیم سے نبیوں پر نازل ہوتا تھا جس کا ثبوت ہم دے چکے نئی بات کونسی تھی۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی پہلے لکھا ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ مَیں کہتاہوں کہ گویہ بات سچ ؔ ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے۱ ۱۲ خداتعالیٰ کی طرف ہی ہر ایک امر رجوع کرتا ہے مگر اِس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اِس سے انسان کی مجبوری لازم آتی ہے غلط فہمی ہے۔ یوں تو خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ مَیں مینہ برساتا ہوں اور برق و صاعقہ کو پیداکرتا ہوں اورکھیتیاں اگاتا ہوں مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسباب طبعیہ مینہ برسنے اوررعد و برق کے پَیدا ہونے کے جو ہیں اس سے اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے۔ بالکل فضول ہے۔ کیونکہ یہ مراتب بجائے خود بیان فرمائے گئے ہیں کہ یہ تمام چیزیں اسباب طبعیہ سے پَیدا ہوتے ہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے ایسے بیانات سے کہ میرے حکم سے بارشیں ہوتی ہیں اورمیرے حکم سے کھیتیاں اُگتی ہیں اور برق و صاعقہ پیدا ہوتا ہے اور پھل لگتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور ہر ایک بات میرے ہی قبضہ اقتدار میں اور میرے ہی امر سے ہوتی ہے۔ یہ ثابت کرنا مقصودنہیں کہ سلسلہ کائنات کا مجبورمطلق ہے بلکہ اپنی عظمت اور اپنا علت العلل ہونا اوراپنا مسبب الاسباب ہونا مقصود ہے کیونکہ تعلیم قرآنی کا اصل موضوع توحید خالص کو دُنیا میں پھیلانا اورہر ایک قسم کے شرک کوجو پھیل رہا تھا مٹانا ہے۔ اور چونکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے وقت عرب کے جزیرہ میں ایسے ایسے مشرکانہ عقائد پھیل رہے تھے کہ بعض بارشوں کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے تھے اور بعض دہریوں کی طرح تمام چیزوں کا ہونا اسباب طبعیہ تک محدود رکھتے تھے ۔ اور بعض دو خدا سمجھ کر اپنے ناملائم قضا وقدر کو اھرمن کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اِس لئے یہ خداتعالیٰ کی کتاب کا فرض تھا جس کے لئے وہ نازل ہوئی کہ اُن خیالات کو مٹادے اور ظاہر کرے کہ اصل علّت العلل