گیارھواںؔ پرچہ مباحثہ ۲۔ جون ۱۸۹۳ ؁ء روئیداد جلسہ آج مرز ا صاحب نے ۶ بجے ۹ منٹ پر جواب لکھوانا شروع کیا اور ۷ بجے ۹ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے ۷ بجے ۴۰ منٹ پر جواب لکھوانا شروع کیا اور آٹھ بجے ۴۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔ مرزا صاحب نے ۹ بجے ایک منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۱۰ بجے ایک منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایاگیا۔ بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلسوں کے دستخط ہو کے جلسہ برخاست ہوا۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ غلام قادرفصیح پریزیڈنٹ ا ز جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام بیان حضرت مرزا صاحب ۱۳؂۔ جوان ۱۸۹۳ ؁ء وقت۱۰۶ پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’بے حدی سے خالی ہونا تو کسی کا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ مسیح اِس سے خالی رہے یعنی مسیح روح القدس کے نزول سے پہلے بھی مظہر اللہ ہی تھا کیونکہ عام معنوں سے تو تمام مخلوقات مظہر اللہ ہے۔‘‘ جواب مَیں کہتا ہوں کہ آپ کااَب بھی وہی اقرار ہے کہ خاص طور پر مسیح مظہر اللہ نزول روح القدس کے بعد ہوئے اور پہلے اوروں کی طرح عام مظہر تھے ۔ اورپھر ڈپٹی صاحب موصو ف تین اقنوم کا ذکر فرماتے ہیں اوریہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کا ذکر بے ثبوت ہے آپ نے اس پر کوئی عقلی دلیل نہیں دی۔