اَز جانب ڈپٹی عَبد اللہ آتھم صاحب
یکم جون ۱۸۹۳ ء
۲۹۷
جناب کا یہ فرمانا کہ مسیح تیس بَرس تک الوہیّت سے خالی رہے بقول میرے یہ خوش فہمی ہے میرا کہنایہ ہی تھا کہ مسیحیت کے عہدہ پر وہ تب تک نہیں آئے۔ اور یہ صحیح ہے باقی جو کچھ آپ نے فرمایا وہ زائد ہے۔ بے حدی سے خالی ہونا تو کسی کا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ مسیح اس سے خالی رہے۔ اقنوم ثانی کا جو رشتہ انسانیت سے ہے واسطے مسیحیت کے ہے اقنوم ثانی گو ساتھ الوہیت کے ہو۔ تاہم وہ مسیح نہیں تھا جب تک کہ تیس برس کا ہوا۔
مظہر اللہ کے معنے کیاہیں اور کس مراد سے یہ کلمہ استعمال ہوا ہے۔ ہماری نظر میں تو یہ معنی ہیں جائے ظہور اللہ کی اور واسطے عہدہ مسیحیت کے ہیں پھر کیوں اس پر آپ تنازعہ کرتے ہیں ۔ رُوح القدس برائے گواہی اس امر کے آیا کہ یہ بیٹا خدا کا ہے خدا نے کہا مَیں اِس سے راضی ہوں نہ اِس لئے کہ اس وقت آن کر اس کے بیچ میں داخل ہوا۔
(۲)آپ کے دوسرے امر کا جواب یہ ہے کہ جو چاہو آپ فرماؤ۔ لیکن اِس کا جواب آپ نے نہیں دیا کہ تقاضائے عدل کا کیونکر پورا ہو۔ اگر آپ کے فرمانے کا یہ مطلب ہے تقاضائے عدل کچھ شے نہیں ہے تو ہمارا آپ سے اِس صداقت اولیٰ پر اتفاق نہیں۔
(۳) آپ فرماتے ہیں کہ جبر قرآن سے ثابت نہیں مجھے اس میں حیرانی ہے کہ آپ اُس آیتؔ کے لفظوں کی طرف توجہ نہیں فرماتے جس میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ میں ہے اور بجواب اِس کے کہاجاتاہے کہ کہدے۔ سب کام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور آیات تو مَیں اِس مقدمہ میں بہت قرآن سے دے سکتا ہوں لیکن حاجت نہیں۔ پھر آپ کا عقیدہ اِس میں جو لکھا ہے والقد ر خیرہ وشرہ من اللّٰہ تعالٰی خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ نتیجہ منتخب